احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 190
ریاست بنانے کے بارے میں قادیانیوں کی پیشگوئیوں اور بیانات کا علم ہو گیا اور اس بات کی وجہ سے کہ ان کی پالیسی اور امنگیں یہ ہیں کہ ہندوستان کو متحد کر دیا جائے لیاقت علی خان صاحب نے حکم دیا کہ انٹلیجنس کا خصوصی شعبہ قائم کیا جائے جو کہ ان قادیانیوں کی لسٹ بنائے جو کہ حساس عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھے۔پہلی بات یہ ہے کہ الزام تراشی کی جلدی میں دو عجیب وغریب متضاد الزام لگا دیئے گئے ہیں۔اگر احمدی کشمیر اور بلوچستان میں اپنی علیحدہ ریاستیں بنانے کی سازش کر رہے تھے تو پھر یہ ممکن نہیں کہ وہ متحدہ ہندوستان کے دوبارہ قیام کی سازش کر رہے تھے۔اگر احمدیوں نے کشمیر میں اپنی علیحدہ ریاست بنائی تھی تو پھر متحدہ ہندوستان بنانے کی سازش نہیں ہو سکتی تھی بلکہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے متعلق بھی یہ سازش تھی۔یہی ایک پہلو اس الزام کو غیر سنجیدہ الزام ثابت کر دیتا ہے۔ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے کہ اگر لیاقت علی خان صاحب کے نزدیک احمدی اتنی بڑی سازش کر رہے تھے تو پھر انہوں نے ایک احمدی کو اپنے آخری دم تک ملک کا وزیر خارجہ کیوں بنائے رکھا؟ اور جہاں تک اس افسانوی Special Intelligence Cell کا تعلق ہے تو اس کا ثبوت کیا ہے؟ اس کا ثبوت دینا تو الزام لگانے والوں کا کام ہے۔اس کا ثبوت دیکھنے کے بعد ہی اس کے متعلق کوئی رائے دی جاسکتی ہے۔اس وقت کا ریکارڈ تو اب declassify بھی ہو چکا ہے۔اس لئے اس کا ثبوت نہ دینے کا کوئی عذر نہیں ہونا چاہیے۔البتہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب کے متعلق جو ریکارڈ ہم نے دیکھا ہے، اس کے مطابق آپ کو ایک طبقہ سے خدشہ تھا کہ وہ پاکستان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور وہ کون سا طبقہ تھا ؟ یہ جاننے کے لئے ہم خود انہی کے الفاظ پیش کرتے ہیں۔یہ موقع بھی بہت اہم تھا۔یہ موقع تھا جب پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں 190