احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 179 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 179

میں چلا گیا اور دوسرے مطالبات زیادہ اہمیت اختیار کر گئے۔اب ہم بیان کو مختصر کرتے ہوئے جون 1988 ء پر آتے ہیں۔جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے جماعت احمدیہ کے معاندین مکفرین اور مکذبین کومباہلہ کا چیلنج دیا۔دوسرے چیلنجوں کے علاوہ ایک چیلنج یہ بھی تھا۔’ جماعت احمدیہ کے موجودہ امام یعنی اس عاجز کے متعلق حسب ذیل پرو پیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ موجودہ امام جماعت احمدیہ، اسلم قریشی نامی ایک شخص کے اغواء اور قتل میں ملوث ہے۔میں بحیثیت امام جماعت احمد یہ یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ تمام الزامات کلیۂ جھوٹے اور افتراء ہیں اور ان میں کوئی بھی صداقت نہیں۔لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْن۔( جماعت احمدیہ عالمگیر کی طرف سے دنیا بھر کے معاندین اور مکفرین اور مکذبین کو مباہلے کا کھلا کھلا چیلنج۔صفحہ 11) اور اس دعوت مباہلہ کے آخر پر اس مباہلہ کا مقصد یہ لکھا تھا: تا کہ بچے اور جھوٹے میں خوب تمیز ہو جائے اور حق اور باطل کے درمیان فرق ظاہر ہو۔“ اس مضمون کے موضوع کی مناسبت سے مباہلہ کے صرف اس پہلو کے بارے میں جائزہ لینا مناسب ہوگا یا تو مخالفین اقرار کریں کہ انہوں نے مباہلہ کی دعوت قبول نہیں کی تھی یا پھر یہ قبول کرنا ہوگا کہ اس پہلو سے جو فیصلہ ہوا وہ خدا کی طرف سے فیصلہ تھا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا کیونکہ اس مباہلہ میں تو یہی لکھا تھا کہ خدا خود کچے اور جھوٹے میں تمیز کر کے دکھائے۔مُردہ زندہ ہوتا ہے ابھی اس چیلنج کو کچھ ہفتے ہی گزرے تھے کہ 12 جولائی 1988 ء کا دن آن پہنچا اور وہ دن خاکسار کو بھی بخوبی یاد ہے۔صبح سے اسلم قریشی صاحب کے متعلق کچھ افواہیں گردش کرنا شروع ہو گئی تھیں جو کہ گزشتہ سالوں کے واقعات کو دیکھتے ہوئے نا قابل یقین لگ رہی تھیں۔179