احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 177 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 177

یہاں ” کلیدی اسامیوں کی تعریف بھی ملاحظہ فرمائیں، چنیوٹ میں ہونے والی اکتیسویں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ چنیوٹ کے ریلوے سٹیشن کے سٹال کا ٹھیکہ ایک قادیانی کو دیا گیا ہے اسے فوری طور پر ہٹایا جائے اور گورنمنٹ کالج چنیوٹ کی حساس پوسٹ یعنی ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن (جس کا کام ورزش کرانا تھا) پر قادیانی کولگا یا گیا ہے اسے فوری طور پر برطرف کیا جائے۔چٹان 2 تا 9 جنوری 1984 ، صفحہ 21 تا 23 اب ضیاء صاحب کی مخالف سیاسی جماعتیں بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی تھیں اور یہ بیان دے رہی تھیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جنرل ضیاء صاحب کے ارد گرد اہم عہدوں پر قادیانی مقرر ہیں اور اس کی دلیل یہ دی جارہی تھی کہ آرمی کے ایک ہسپتال کا ڈائیریکٹر آف سرجری ایک قادیانی ہے جو چندے بھی دیتا ہے۔یہ جنون اس حد تک ترقی کر چکا تھا کہ بلوچستان کے ایک سیاستدان میر غوث بخش بزنجو صاحب نے بیان دیا کہ ہم سیکولر لوگ ہیں اور ہم دوسری آئینی ترمیم (جس میں احمدیوں کو آئین کی اغراض کے لئے ) غیر مسلم قراردیا گیا تھا اسے تسلیم نہیں کرتے۔پہلے جماعت کے مخالف اخبارات نے اسے اجماع امت سے بغاوت قرار دیا۔پھر ایک اور سیاستدان نوابزادہ نصر اللہ خان صاحب نے بیان داغا کہ بزنجو صاحب سے ناراض نہ ہوں وہ مسلمان نہیں ہیں۔چٹان 23 تا 30 جنوری 1984 ء صفحہ 37 ، چٹان 19 مارچ 1984 ، صفحہ 7 ، چٹان 16 تا 23 اپریل 1984ء) بغاوت کی دھمکی اور آرڈیننس کا نفاذ اب یہ اعلان کیا گیا کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو 30 اپریل 1984ء کو قادیانیوں کی عبادتگاہوں کو مسمار کر دیں گے۔گویا احمدیوں کو بغاوت کے منصوبوں کا الزام 177