احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 176
موجودگی میں مطالبہ کیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ختم نبوت کی حفاظت کے لئے مرتد کی سزا موت تجویز کی ہے اور حکومت کو چاہیے کہ اس پر عمل درآمد کرے اور کونسل نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ قادیانیوں کو روکا جائے کہ وہ اپنی عبادت گاہ کے لئے مسجد کا لفظ استعمال کریں اور اذان کا استعمال کریں یا اپنے لئے مسلمان کا لفظ استعمال کر سکیں۔اور جسٹس صاحب نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عم کیوں نہیں کر رہی۔اس کے جواب میں جنرل ضیاء صاحب نے کہا کہ ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ دس دن کے لئے حکومت تنزیل الرحمن صاحب کے حوالے کر دیں تا کہ انہیں حکومت کی مشکلات کا اندازہ ہو جائے۔ر عملدرآمد چٹان 2 تا 9 جنوری 1983 ء صفحہ 7,6 ) 1984ء کے آغاز کے بعد اسلم قریشی صاحب نے تو کہاں دریافت ہونا تھا ، البتہ ان کی گمشدگی یا اغوا اور پھر شہادت کا سہارا لے کر جماعت احمدیہ کے مخالفین کے مطالبات کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جارہی تھی۔اب یہ کہا جارہا تھا کہ مرتد کے لئے سزائے موت نافذ کئے بغیر تو اسلامی نظام مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔قادیانیوں کو اسلامی اصطلاحات مثلاً نبی ، رسول ،خلیفہ، امہات المومنین ، سیدۃ النساء، صحابی وغیرہ کے استعمال سے روکا جائے۔مسجد اور اذان کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔قادیانیوں کے تمام لٹریچر پر پابندی لگائی جائے۔ان کا روز نامہ الفضل بند کیا جائے۔امام جماعت احمدیہ پر آئین سے غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔احمدیوں نے مسلح عسکری تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں ان پر پابندی لگائی جائے اور اسلم قریشی صاحب کے اغوا پر حکومت کی سرد مہری قابل نفرت ہے اس لئے مرزا طاہر احمد کو گرفتار کر کے اس معمے کو حل کیا جائے۔کلیدی عہدوں پر قادیانیوں کو لگانا آئین سے غداری کے مترداف ہے، اس لئے انہیں ان کلیدی آسامیوں سے فوری طور پر برطرف کیا جائے۔176