احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 167 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 167

سیشن عدالت نے سزا سناتے ہوئے مجرم کی کچھ مدح سرائی بھی کی تھی۔اب اسلم قریشی کے متعلق بھی پریس کا ایک حصہ اس قسم کا رویہ اپنائے ہوئے تھا۔(امروز 16 ستمبر 1971 ، صفحہ 1 ، مساوات 16 ستمبر 1971 ، صفحہ 1 ، الفضل 17 ستمبر 1971 ، صفحہ 1) گرفتاری اور معافی یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب اسلم قریشی صاحب پر اقدام قتل کا مقدمہ چلا یا گیا تو راجہ ظفر الحق صاحب نے اس کی طرف سے مقدمے کی پیروی کی تھی۔راجہ ظفر الحق صاحب بعد میں جنرل ضیاء صاحب کی کابینہ میں وزیر اطلاعات بھی رہے اور 1992ء میں مؤتمر العالم الاسلامی کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں۔بہر حال اسلم قریشی صاحب کو پندرہ برس کے لئے جیل کی سزا ہوئی لیکن ان کا بیان تھا کہ مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب نے اُس وقت 1974ء میں بھٹو صاحب سے سفارش کروا کر انہیں رہا کروا لیا اور اس کے بعد وہ عمرہ کرنے اور ملازمت کرنے سعودی عرب چلے گئے۔(حیرت ہے اس ریکارڈ کے آدمی کو سعودی عرب میں ملا زمت مل بھی گئی ) لیکن سعودی عرب میں ان کا دل نہیں لگا اور وہ پاکستان واپس آگئے لیکن اس کے بعد بھی ایک مرتبہ اسلم قریشی صاحب کو جیل جانے کا اتفاق ہوا اور اس کی وجہ ان میں اور ان کے ہمزلف کے درمیان جائیداد پر ہونے والا جھگڑا تھا۔(روز نامہ حیدر راولپنڈی 1988-7-19 مکتوب سیالکوٹ از احسان چوہدری، چٹان 5 تا 12 ستمبر 1983 صفحہ 33 تا35 ) اب ایک داڑھی کے اضافہ کے ساتھ وہ ”مولانا بن چکے تھے بلکہ جماعت احمدیہ کے مخالفین کی تنظیم " مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرکردہ مبلغ بھی بن چکے تھے۔اب جو حالات ذیل میں درج کئے جائیں گے وہ جماعت احمدیہ کی کسی کتاب یا اخبار سے نہیں بلکہ اُن اخبارات سے پیش کئے جائیں گے جو جماعت احمدیہ کے خلاف بہت کچھ لکھ چکے ہیں یا ان رسالوں سے پیش کئے جائیں گے جو کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت کے لئے 167