احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 162 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 162

پاکستان میں جگہ جگہ خانہ جنگی کی بنیاد قتل مرتد کے فتاوی تھے یہ سلسلہ صرف اس مرحلہ پر نہیں رک جاتا کہ مختلف فرقوں کو کا فرقرار دیا گیا اور اس بناء پر انہیں مرتد اور پھر واجب القتل قرار دیا گیا اور ملک میں خون خرابہ شروع ہو گیا جیسا کہ حضرت خلیفة أمسیح الرابع رحمہ اللہ نے خبر دار فرمایا تھا یہ سلسلہ اس سے بہت آگے چلتا ہے۔پھر یہ سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ ملک کی حکومت کیا مسلمان ہے یا کافر ہے؟ ملک کی عدلیہ کیا اسلام پر کاربند ہے یا کفر پر کار بند ہے؟ ملک کی فوج کیا اسلامی احکامات پر عمل کر رہی ہے؟ یا کافروں کی آلہ کار بنی ہوئی ہے؟ یہ آئین کیا اسلامی ہے یا اس کی بنیاد کفر کے نظریات پر ہے؟ جب پاکستان میں تنگ نظر طبقہ نے یہ سوالات اُٹھا دیئے تو پھر ان کو حل کرنے کے لئے ملک سے باہر سے کچھ علماء بلائے گئے جنہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ یہ سب تو کافر ہو چکے ہیں بلکہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے اس طبقہ نے ” قواعد التکفیر “ شائع بھی کئے تاکہ مسلمانوں کو کافر اور مرتد قرار دینے کا کام منظم طریق پر آگے بڑھایا جا سکے۔جب یہ مسلمان کا فر ہو گئے تو یقینی طور پر مرتد ہیں۔اور مرتد کی سزا قتل ہے۔چنانچہ ان دہشت گردوں نے یہ اعلان کیا کہ ار ہمارا کام ہے کہ ان مرتدوں کو قتل کی شرعی سزا دیں اور اس کو بنیاد بنا کر ملک کے مختلف حصوں میں جن میں خاص طور پر سوات اور وزیرستان شامل ہیں بغاوت اور خانہ جنگی شروع کر دی گئی۔اس موضوع پر بہت سی تحقیقات سامنے آچکی ہیں لیکن اس ضمن میں خاص طور پر سید سلیم شہزاد صاحب کی کتاب " Inside Alqaeda and Taliban beyond Bin 11/9 Laden and کا ایک باب Takfeer and Khrooj جو اس کتاب کے صفحہ 124 تا 155 پر ہے خاص طور پر مطالعہ کے قابل ہے۔اسی طرح سوات میں بغاوت اُٹھاتے وقت صوفی محمد صاحب نے فتویٰ دیا کہ 162