احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page xvi of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page xvi

تو ایسا کرو یا تو انہیں مسلمانوں جیسے ناموں کو استعمال کرنے سے روکو یا اگر اس کی تو فیق نہیں تو کم از کم ان کے نام کے ساتھ غلام مرزا یا مرزائی جیسے سابقے اور لاحقے لگا کر وطن عزیز کو اشتباہ کی اس وبا سے نجات دلانا مناسب ہوگا۔اس کے علاوہ عدالتی فیصلہ میں کچھ اعداد و شمار درج کر کے یہ بھی لکھا گیا ہے کہ آخر حکومت ایسا کوئی سائنسی طریقہ کیوں نہیں ڈھونڈتی کہ پاکستان میں باقی ماندہ اقلیتوں کی صحیح صحیح تعداد معلوم ہو جائے۔اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا تو اس اقلیت کے افراد حساس عہدوں پر براجمان رہیں گے اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوگی۔اس ملک کے ہر شہری کا یہ حق ہے کہ اسے علم ہو کہ اس ملک کے حساس عہدوں پر مقرر اشخاص کے عقیدے آخر کیا ہیں؟ اس ملک کی اکثر اقلیتوں کی تو کوئی نہ کوئی علیحدہ پہچان ہے لیکن ایک اقلیت ایسی ہے جسے نام اور لباس کے معائنے سے پہچاننا دو بھر ہو رہا ہے۔اگر اس کا کوئی انتظام نہ کیا گیا تو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ باوقار اور حساس عہدوں پر فائز ہو کر فائدہ اٹھا لیں۔چنانچہ بہت ضروری ہے کہ شناختی کارڈ، پاسپورٹ بناتے ہوئے اور نادرا میں اندراج کرواتے ہوئے عقائد کا بیان حلفی بھروایا جائے۔مسئلہ کا تاریخی پس منظر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جناب جسٹس شوکت عزیز صاحب نے احمدیوں کے بارے میں جو تفصیلی فیصلہ تحریر فرمایا ہے، اس کی ضخامت 172 صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں فیصلہ کا حصہ تو تھوڑا ہے لیکن طویل تاریخی پس منظر بیان کر کے اس فیصلہ کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس میں بہت سے تاریخی واقعات کا تجزیہ کرنے اور ان کا تعلق کسی نہ کسی طرح جماعت احمدیہ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔یوں تو فیصلہ میں بیان کردہ تمام تاریخی نکات قابل توجہ ہیں لیکن اس مضمون میں ان نکات میں سے صرف ایک پر تبصرہ کیا جائے گا۔iv