احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page xv of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page xv

!!! کے عہدوں سمیت سامنے لائی جائیں۔انتخابات میں کھڑے ہونے والے امیدواروں کا پرانا حلف نامہ بحال کیا جائے۔اُن NGOs پر پابندی لگائی جائے جو کہ ملک میں سیکولر پرو پیگنڈہ کر رہی ہیں۔یہ مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب پر مشتمل ایک رکنی بینچ سن رہا تھا۔جب اس مقدمہ کی کارروائی آگے بڑھ رہی تھی تو اس بارے میں کوئی شک نہیں رہا تھا کہ کس قسم کا فیصلہ سنایا جائے گا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ 4 جولائی کو تفصیلی فیصلہ سامنے آیا۔اس عدالتی فیصلہ کی بعض شقیں ملاحظہ ہوں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ کے فیصلہ میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اگرچہ 1974ء میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا لیکن اس ترمیم پر پوری طرح عملدرآمد نہیں ہو سکا۔اور اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ قادیانی اس پر عملدرآمد کی راہ میں روڑے اٹکاتے رہے ہیں۔جج صاحب نے مزید انکشاف کیا کہ قادیانیوں کا معاملہ باقی اقلیتوں کی طرح کا نہیں ہے کیونکہ باقی اقلیتیں تو اپنے نام، وضع قطع ، عقائد اور طریقہ عبادت کی وجہ سے صاف پہچانی جاتی ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ قادیانیوں کے نام،شکل صورت حتی کہ نماز کا طریقہ بھی مسلمانوں جیسا ہے اس لئے انہیں مسلمانوں سے فرق کرنا مشکل ہو رہا ہے اور اس وجہ سے دوسری آئینی ترمیم کے مقاصد حاصل نہیں ہو رہے۔اس کی معین مثال دیتے ہوئے حج صاحب نے تحریر فرمایا کہ نام احمد کچھ احمدیوں کے لئے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے اور اسی وجہ سے بعض مرتبہ قادیانیوں کو احمدی بھی کہا جاتا ہے اور اس کی اجازت تو کسی صورت نہیں دی جاسکتی کیونکہ یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے۔اس لئے اگر اس مخلوق کو کوئی نام دینے کا احسان کرنا ہی ہے تو انہیں غلام مرزا یا مرزائی کہہ دیا کرو اور رہا ان کے ذاتی ناموں کا بکھیڑا