احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 126
1974ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف فسادات شروع ہونے یا شروع کرانے سے قبل رابطہ عالم اسلامی کا ایک اجلاس مکہ مکرمہ میں منعقد کیا گیا۔اس میں مختلف مسلمان ممالک کے وفود نے شرکت کی۔اس میں ایک سب کمیٹی میں جماعت احمدیہ کے متعلق بھی کئی تجاویز پیش کی گئیں۔اس کمیٹی کا نام کمیٹی برائے Cults and Ideologies تھا۔اس کے چیئر مین مکہ مکرمہ کی اُم القریٰ یونیورسٹی میں اسلامی قانون کے Associate پروفیسر مجاہد الصواف تھے۔اس کمیٹی کے سپر د بہائیت، فری میسن تنظیم ، صیہونیت اور جماعت احمد یہ کے متعلق تجاویز تیار کرنے کا کام تھا۔اس کمیٹی میں سب سے زیادہ زور وشور سے بحث اُس وقت ہوئی جب اجلاس میں جماعت احمدیہ کے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیالات ہوا اور اس بات پر اظہار تشویش کیا گیا کہ پاکستان کی بیوروکریسی ، ملٹری اور سیاست میں احمدیوں کا اثر ورسوخ بہت بڑھ گیا ہے اور یہ ذکر بھی آیا کہ اگر احمدی غیر مسلم بن کر رہیں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ احمدی افریقہ اور دوسری جگہوں پر اپنے آپ کو عالم اسلام کی ایک اصلاحی تنظیم کے طور پر پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور اس بات پر اظہار تشویش کیا گیا کہ قادیانیوں نے حیفا میں اسرائیلی سرپرستی میں اپنا مشن قائم کیا ہے اور اسے چلا رہے ہیں۔یہ تاریخی حقائق کے بالکل خلاف تھا۔کہا بیر، حیفا میں جماعت اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے قائم تھی اور دوسرے لاکھوں مسلمانوں کی طرح انہوں نے اس وقت بے انتہا تکالیف اٹھائی تھیں جب وہاں پر یہودی تسلط قائم کیا جا رہا تھا اور اس وقت حیفا میں صرف احمدی ہی نہیں رہ رہے تھے بلکہ دوسرے بہت سے مسلمان بھی رہ رہے تھے۔) بہر حال خوب جھوٹ بول کر مندوبین کو جماعت کے خلاف بھڑ کا یا گیا۔تمام تگ و دو کے بعد جماعت احمدیہ کے متعلق تجاویز پیش کی گئیں اور یہ تجویز کیا گیا کہ تمام عالم اسلام کو 126