احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page xiv
نہیں تھیں اور انتخابات میں کھڑے ہونے والے امیدواروں کے لئے جہاں پر ختم نبوت کا حلف نامہ دیا گیا تھا وہاں I solemnly swear“ کی جگہ I believe“ کے الفاظ شامل کئے گئے تھے۔قوانین منظور ہو گئے۔بعد میں اس بابت سوال اُٹھایا گیا اور فساد کرنے کی دھمکی دی گئی تو مذکورہ قوانین ایک بار پھر انتخابی قوانین کا حصہ بنادیئے گئے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں اور مقدمہ کی کارروائی جماعت احمدیہ کے مخالفین کے مطالبات تو پورے کر دیئے گئے لیکن بہت سے سیاسی بالشتیے اپنے قد کاٹھ میں اضافہ کرنے کے لئے ایسے مواقع کے منتظر ہوتے ہیں۔چنانچہ ملک میں فسادات بر پا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔دھرنا دے کر لوگوں کا جینا دوبھر کیا گیا۔اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں کچھ اشخاص کی طرف سے پیٹیشن (petition) درج کرانے کا سلسلہ شروع ہوا۔اس قسم کی پیٹیشن درج کرانے والوں میں جماعت احمدیہ کے پرانے مخالف مولوی اللہ وسایا صاحب، یونس قریشی صاحب اور تحریک لبیک یا رسول اللہ وغیرہ شامل تھے۔اور وفاق پاکستان کو بواسطہ سیکرٹری قانون وانصاف ، اور حکومت پاکستان کو بواسطہ وزیر اعظم پاکستان مدعا علیہ بنایا گیا تھا۔پیٹیشن دائر کر نے والوں کی درخواست تھی کہ انتخابات کے قوانین میں کی جانے والی مذکورہ تبدیلیوں کو ختم کیا جائے۔(اور اس فیصلہ کے سنائے جانے سے قبل پارلیمنٹ نے ان ترامیم کو ختم کر بھی دیا تھا۔) اور حکومت کو ہدایت کی جائے کہ جواحمدی سرکاری ملازمت میں داخل ہوں اُن کی علیحدہ لسٹیں رکھی جائیں تا کہ ان احمدیوں کو حساس عہدوں پر نہ لگایا جائے۔اس بات کی تحقیقات کرائی جائیں کہ ان ترامیم کی پشت پر کون سے ہاتھ کارفرما تھے اور اس ضمن میں راجہ ظفر الحق صاحب نے جو تحقیقات کی تھیں وہ شائع کی جائیں۔فیڈرل حکومت کی ملازمت میں جو احمدی اس وقت کام کر رہے ہیں ان کی لسٹیں ان