احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 119
ممبران اسمبلی کو کارروائی پڑھا ئیں لیکن مکمل کارروائی پڑھائیں جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے بجا طور پر اپنے فیصلہ کے صفحہ 164 پر لکھا ہے: "It would be pertinent to observe here that steps shall be taken to ensure that every parliamenatarian is provided adequate awareness about the parliamentary debates and proceedings taken place during the course of passage of 2nd Constitutional Amendment❞ ترجمہ: یہ تبصرہ کرنا مناسب ہوگا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہرممکن قدم اٹھانا چاہیے کہ ممبران پارلیمنٹ کو ان بحثوں اور کارروائی سے کافی آگہی حاصل ہو جو کہ دوسری آئینی ترمیم کو منظور کرتے ہوئے کی گئی۔ہم کم از کم ان کی اس بات سے متفق ہیں۔نہ صرف ممبران پارلیمنٹ کو بلکہ اس ملک کے ہر پڑھے لکھے شخص کو اس بارے میں آگہی دینی ضروری ہے لیکن اس خواہش کی تکمیل سے پہلے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی مکمل کارروائی شائع کرے۔اب تک جماعت احمدیہ کا موقف جو کہ ایک محضر نامہ کی صورت میں دو روز اس کمیٹی کے سامنے پڑھا گیا تھا اسے تو قومی اسمبلی نے شائع ہی نہیں کیا۔اگر ان کے نزدیک جماعت احمدیہ کا موقف کمز ور تھا تو پھر تو انہیں اس بات کے لئے بے تاب ہونا چاہیے تھا کہ جماعت احمدیہ کا محضر نامہ شائع کریں۔مخالفین نے جو ضمیمہ جات جمع کرائے تھے وہ تو اس کا رروائی کا حصہ بنا دیئے گئے لیکن جماعت احمدیہ نے جو ضمیمہ جات جمع کرائے تھے وہ اس اشاعت کا حصہ نہیں بنائے گئے۔ان کی اشاعت بھی تو ضروری ہے۔119