احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 116
"Sir, the resolution(37)presented by the members, I would say with utmost respect, that it also has some conflict۔" (page 63) اسی طرح اٹارنی جنرل صاحب نے کہا تھا کہ اپوزیشن کے 37 اراکین نے جو قرار داد پیش کی ہے۔اس میں ایک طرف تو یہ کہا گیا ہے کہ قادیانیت ایک تخریبی تحریک ہے اور دوسری طرف اسی قرار داد میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کو اقلیت قرار دے کر ان کے حقوق محفوظ کئے جائیں تو کیا آپ تخریبی تحریک کو تحفظ دیں گے۔اگر آپ نے انہیں علیحدہ مذہب قرار دیا تو آپ کو انہیں ایک مذہب کے حقوق دینے پڑیں گے۔اور ان حقوق کے بارے میں اٹارنی جنرل صاحب نے کہا تھا: "It is my duty to draw the attention of the honorable members of the house that if you declare a section of population as a separate religious community, then not only the constitution but even your religion enjoins upon you to respect their right to profess and practice their religion and to propagate it۔I do not want to say anything more”۔۔۔۔۔۔۔ترجمہ: میرا یہ فرض ہے کہ معزز اراکین اسمبلی کو یہ توجہ دلا دوں کہ جب آپ اپنی آبادی کے ایک حصہ کو علیحدہ مذہبی گروہ قرار دیتے ہیں تو نہ صرف آئین بلکہ آپ کا مذہب بھی آپ کو حکم دیتا ہے کہ اسے اپنے مذہب کا اعلان کرنے ، اس پر عمل کرنے اور اس کو پھیلانے کی اجازت دی جائے۔میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ جماعت احمدیہ نے کبھی کسی اسمبلی یا آئین کا یہ حق تسلیم نہیں کیا کہ وہ کسی گروہ کے مذہب کا فیصلہ کرے لیکن آئین کی رُو سے اور اسلام کی رُو سے کسی بھی گروہ کو 116