احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 104
اس ضمن میں دو اہم پہلو جان کر سب کو حیرت ہوگی۔1۔قارئین کو یہ جان کے حیرت ہوگی کہ 1982ء میں انڈیا آفس لائبریری کو ختم کر کے اس کا سارا مواد برٹش لائبریری منتقل کر کے اس کے ORIENTAL AND INDIA OFFICE کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔گویا جب 2011 ء میں یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ میہ دستاویز آج بھی انڈیا آفس لائبریری میں موجود ہے اس وقت انڈیا آفس لائبریری ہی موجود نہیں تھی۔2۔بہر حال انڈیا آفس لائبریری کا ریکارڈ تو موجود تھا۔اس لئے ہم نے متعلقہ حصہ سے رابطہ کر کے سوال کیا کہ کیا اس ریکارڈ میں THE ARRIVAL OF BRITISH IN INDIA نام کی کوئی دستاویز موجود ہے؟ چونکہ اس شعبہ میں کیے جانے والے ہر استفسار یا درخواست کو ایک نمبر دیا جاتا ہے۔یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ ہمارے سوال کا نمبر 7007475 تھا۔جس اہلکار نے اس کا جواب دیا ان کا نام DOROTA WALKER تھا۔ان کا جواب موصول ہوا کہ اس نام کی کوئی دستاویز ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔ہر کوئی متعلقہ شعبہ سے رابطہ کر کے ان حقائق کی تصدیق کر سکتا ہے۔3۔راقم الحروف خود بھی برٹش لائبریری جا کر جائزہ لے چکا ہے۔یہ ساری کہانی جھوٹ پر مشتمل ہے۔اس نام کی کسی دستاویز کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔اگر اب بھی کسی کا خیال ہے کہ اس کا وجود تھا ؟ تو اس کا فرض ہے کہ وہ اس کا ثبوت مہیا کرے۔یہ چیلنج تحریری طور پر ، انٹرنیٹ پر ، ٹی وی پر ، یوٹیوب پر بارہا دیا جا چکا ہے۔آخر مخالفین جماعت اس ذکر سے اتنا گھبرا کیوں رہے ہیں؟ اس طلسماتی دستاویز کا ذکر تو پاکستان کی قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں بھی ہوا تھا۔آخر ان مخالفین نے یہ دستاویز کہاں پر دیکھی تھی ؟ 104