احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 103
بہت خوب! کیا زبردست ثبوت پیش کیا جارہا ہے؟ کتاب کا نام کیا ہے؟ یہ تو معلوم نہیں۔کس نے لکھی؟ یاد نہیں رہا۔کتاب کہاں ہے؟ وہ تو اب میرے پاس نہیں۔شورش صاحب کی کتاب کے کئی ایڈیشن چھپ گئے لیکن یہ کتاب دستیاب نہ ہوئی نہ اس کا نام سامنے آیا۔پھر وہ اگلے صفحہ پر اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو انگریزوں نے اپنے مقاصد کے لئے کھڑا کیا تھا کیونکہ انہیں ایک حواری نبی کی ضرورت تھی۔اور وہ ایک ایسی پراسرار رپورٹ کا حوالہ دیتے ہیں جو شائع بھی ہو چکی تھی اور اس کا نام تھا "The Arrival of British Empire in India" اور شورش صاحب نے یہ دل دہلا دینے والا انکشاف کیا کہ اس رپورٹ کو پڑھ کر سارے راز کھل جاتے ہیں لیکن اس دستاویز کا حوالہ یا ثبوت کیا ہے؟ کیا یہ کہیں شائع ہوئی تھی ؟ یا اس کے مندرجات کسی کتاب یا جریدہ میں شائع ہوئے تھے ؟ یا یہ کسی لائبریری یا ARCHIVES میں موجود ہے؟ نہ تو شورش صاحب نے بیان کیا اور جب مفتی محمود صاحب نے 1974ء میں اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں جماعت احمدیہ کے خلاف تقریر کی تو انہوں نے بھی عجمی اسرائیل کا حوالہ دیا اور اس راز سے پردہ نہ اُٹھایا کہ یہ کتاب یا دستاویز کس نے دیکھی؟ کہاں دیکھی؟ کہاں پر موجود ہے؟ پھر جب سالہا سال کے بعد جماعت احمدیہ کے مخالفین پر دباؤ بڑھا کہ اس سنسنی خیز دستاویز کا انہیں کہاں سے علم ہوا تو پھر اپنی خفت مٹانے کے لیے روز نامہ نوائے وقت مورخہ 7 ستمبر 2011ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یہ انکشاف کیا گیا کہ یہ دستاویز انڈیا آفس لائبریری میں آج تک موجود ہے۔اس انکشاف سے سب محققین کو خوشی ہوئی کہ اس لائبریری میں موجود ریکارڈ تک تو پبلک کو رسائی ہے، اب یہ دستاویز شائع ہو جائے گی لیکن 103