احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 101
اس فیصلہ کے صفحہ 52 تا 57 پر تفاصیل درج کی گئی ہیں کہ شورش کا شمیری صاحب نے اپنے رسالہ چٹان میں مضامین لکھے ، اُس وقت بھٹو صاحب کو کھلا خط لکھا اور عرب ممالک کے سربراہان کو بھی خطوط لکھے۔اور تحریک ختم نبوت اور عجمی اسرائیل جیسی کتب لکھیں اور ان کا ب لباب یہ تھا کہ قادیانی یہودیوں اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔مغربی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ان کا مشن اسرائیل میں کیا کر رہا ہے؟ یہ لوگ مسلمان ممالک میں خفیہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جن سے مسلمان ممالک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔یہ سیاسی جماعت ہے ان پر پابندی لگانی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔لیکن جسٹس شوکت عزیز صاحب نے اپنے فیصلہ میں ایک چیز کا ذکر نہیں فرمایا اور وہ یہ کہ شورش کا شمیری صاحب کی تحریر کردہ یا مرتب کردہ کتب میں بہت سے مسلمانوں اور ان کی جماعتوں کو کسی نہ کسی کا ایجنٹ اور آلۂ کار قرار دیا گیا ہے یا انہیں یہ الزام دیا گیا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور اسلام کے دشمنوں کے سامنے سر جھکا یا فہرست ملاحظہ ہو : 1۔صحابہ رضی اللہ عنہم میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر الزام کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں جنگ کرانے کی کوشش کی۔(خطبات احرار جلد 1 صفحہ 151 ) 2۔جب مسلم لیگ 1944ء میں پاکستان کے قیام کی جنگ لڑ رہی تھی تو اس پر الزام کہ مسلم لیگ والے اصل میں انگریزوں کے وہ ایجنٹ ہیں جنہوں نے نقاب اوڑھی ہوئی ہے۔(خطبات احرار جلد 1 صفحہ 20) 3۔انیسویں صدی میں مکہ مکرمہ کے حنفی ، مالکی اور شافعی مفتیان کو انگریزوں نے 101