احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 100
دیگر بطور جماعت خود خائف رہنا اور اپنی قوم کو ہندو سے خوف دلا نا لیگ کا فلسفہ حیات ہے یہ دشمنوں کی کوششوں سے بڑھ کر اسلام دشمنی ہے۔“ (صفحہ 20) قائد اعظم اور مسلم لیگ کی قیادت کے بارے میں لکھا ہے: لیگ کے ارباب اقتدار جو عیش کی آغوش میں پہلے ہیں۔اسلام جیسے بے خوف مذہب اور مسلمانوں جیسے مجاہد گروہ کے سردار نہیں ہو سکتے۔مُردوں سے مرادیں مانگنا اتنا بے سود نہیں جتنا لیگ کی موجودہ جماعت سے کسی بہادرانی اقدام کی توقع رکھنا۔“ (صفحہ 22) احرار اس پاکستان کو پلیدستان سمجھتے ہیں جہاں امراء بھوک کو چورن سے بڑھاتے ہوں اور غریب غم کھاتے ہوں۔“ (صفحہ 83) وو بے عملی کے باعث لیگی عمارت ریت کی دیوار پر ہے۔مگر کانگرس قوت عمل کے باعث ہندو کا مضبوط قلعہ ہے۔“ (صفحہ 92) ”پاکستان کی تحریک مکانی لحاظ سے نہیں بلکہ زمانی لحاظ سے شرانگیز ہے۔“ (صفحہ 42) احرار کا وطن لیگی سرمایہ دار کا پاکستان نہیں۔“ (صفحہ 99) ان حوالوں سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان کی آزادی سے قبل شورش کاشمیری صاحب کیا خدمات سرنجام دے رہے تھے۔پاکستان بننے کے بعد یہ ہمت تو نہیں رہی کہ کھلم کھلا پاکستان اور پاکستان کی حکمران جماعت کے خلاف اپنی خدمات جاری رکھ سکیں چنانچہ توجہ کا مرکز زیادہ تر جماعت احمدیہ ہی رہ گئی جیسا کہ 1953ء کے فسادات پر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ سے ظاہر ہے کہ صرف شورش کا شمیری صاحب کو ہی نہیں مجلس احرار کو بھی اس مسئلہ کا سامنا تھا کہ وہ لوگوں کی نظر میں گر گئے تھے اور اب وہ کوئی مسئلہ چھیڑ کر لوگوں کی نظر میں مقبول بننا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے جماعت احمدیہ کے خلاف مہم شروع کی۔100