احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 99
عدالتی فیصلہ میں شورش کا شمیری صاحب کا ذکر عدالتی فیصلہ میں اس دور میں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک اور صاحب کی قلمی کاوشوں کی بھی بہت تعریف کی گئی ہے۔اس فیصلہ کے صفحہ 50 پر لکھا ہے "The credit also goes to the weekly Chattan, Lahore for its bold criticism and exposition of Qadiani intrigues despite stern warning of the Home Department and arrest of its valiant editor, Agha Shorish Kashmiri۔He boldly faced all۔" ترجمہ: دلیرانہ تنقید اور قادیانیوں کو بے نقاب کرنے کی وجہ سے اس کا سہرا ہفتہ وار چٹان لاہور کو جاتا ہے۔باوجود اس کے کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے اسے سخت انتباہ بھی بھجوایا تھا اور اس کے بہادر ایڈیٹر آغا شورش کا شمیری کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔انہوں نے دلیری سے ان حالات کا سامنا کیا۔جب کسی مصنف کی قلمی کاوشوں کا اور اس کے رحجانات کا جائزہ لیا جائے تو مناسب ہوتا ہے کہ اس کی قلمی زندگی کے آغاز سے جائزہ لینا شروع کیا جائے۔یہ درست ہے کہ شورش کا شمیری صاحب نے پاکستان بننے کے بعد جماعت احمدیہ کے خلاف بہت کچھ لکھا لیکن ان کے قلمی معر کے تو پاکستان بننے سے پہلے شروع ہو چکے تھے لیکن اس وقت ان کا مرکز جماعت احمدیہ کی مخالفت اتنی نہیں تھی۔جب 1944ء میں پاکستان کے حصول کے لئے مسلم لیگ کی کاوشیں عروج پر تھیں ، اُس وقت شورش کا شمیری صاحب نے خطبات احرار جلد اول مرتب کر کے شائع کی اور اس کا طویل دیباچہ بھی لکھا۔اس کا ناشر مکتبہ احرار تھا۔مسلم لیگ اور قائد اعظم کے بارے میں اس کتاب کے چند جملے ملاحظہ ہوں۔99