احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 97
والے ایک مقدمہ کے لئے جنرل ضیاء صاحب نے پاکستانی وفد کو اس کارروائی کی مکمل کاپی فراہم کر دی جو کہ اللہ وسایا صاحب کے پاس آگئی گو یا دوہری تصدیق ہو گئی۔اس کے ساتھ انہوں نے ایک فائل کور کی کاپی بھی شائع کی تاکہ یقین ہو جائے کہ یہ اصل اور مکمل کارروائی شائع کی جارہی ہے اور یہ پندرہ روز کی کارروائی جو کہ اکثر صبح سے شام تک چلتی تھی اس کتاب کے 287 صفحات پر آ گئی۔ابھی اس کتاب کے قصے چل رہے تھے کہ اچانک لاہور ہائی کورٹ میں ہونے والے ایک مقدمہ کے نتیجے میں قومی اسمبلی کو 1974ء میں بننے والی سپیشل کمیٹی کی کارروائی شائع کرنی پڑی۔جو کارروائی اللہ وسایا صاحب نے 287 صفحات پر شائع کر کے اسے مکمل قرار دیا تھا، زیادہ بڑے کاغذوں پر 3085 صفحات کے حجم کی تھی یعنی اللہ وسایا صاحب نے 10 فیصد سے بھی کم کارروائی کو مکمل کارروائی قرار دے کر شائع کیا تھا اور وہ بھی جگہ جگہ پر واضح طور پر تبدیل کر کے شائع کی تھی۔اس کا یہی مطلب نکل سکتا ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ کارروائی ایسی تھی جس کو شائع کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کے مخالفین شرمندگی محسوس کرتے تھے۔جب اس بات کے چرچے شروع ہوئے تو اللہ وسایا کی کتاب نے ایک اور جنم لیا اور وہی کارروائی جو کہ پہلے انہوں نے 287 صفحات پر شائع کی تھی 2952 صفحات پر قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ“ کے نام سے شائع کر کے شرمندگی مٹانے کی کوشش کی۔گویا یہ عملی طور پر اس بات کا اقرار تھا کہ انہوں نے پہلے جعلی کارروائی شائع کی تھی۔یہ بھی واضح ہو کہ جو کارروائی قومی اسمبلی کی طرف سے شائع کی گئی اور جومولوی حضرات نے شائع کی ، ان دونوں میں جماعت احمدیہ کا موقف جو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے دو روز کی کارروائی کے دوران پڑھا تھا اور ایک محضر نامے کی صورت میں سب ممبران میں تقسیم بھی کیا 97