احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 96 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 96

فیصلہ میں اللہ وسایا صاحب کا ذکر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مقدمہ کے ایک درخواست گزار اللہ وسایا صاحب تھے۔ان کا تعارف اس فیصلہ میں ان الفاظ میں کرایا گیا ہے۔"Maulana Allah Wasaya, Petitioner in W۔P۔No۔3862/2017,is a renowned religious scholar, author of many famous books on different subjects of Islam" ترجمہ: مولانا اللہ وسایا صاحب درخواست گزار 3862/2017۔W۔P۔No ایک نامور مذہبی سکالر ہیں جنہوں نے مختلف اسلامی موضوعات کے بارے میں بہت سی کتب لکھی ہیں۔اس کے بعد اس فیصلہ میں ان کی ایک کتاب ” پارلیمنٹ میں قادیانی شکست کا ذکر کیا گیا ہے اور جیسا کہ اس کتاب کے نام سے ظاہر ہے یہ کتاب دوسری آئینی ترمیم کے بارے میں ہے۔ہم اس کتاب کا مختصر تعارف کرائیں گے جس کے بعد مصنف کا زیادہ تعارف کرانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔2000ء میں اللہ وسایا صاحب نے ایک کتاب ”پارلیمنٹ میں قادیانی شکست“ کے نام سے شائع کی اور اس کے سرورق پر لکھا تھا ” قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی مکمل روداد صاف ظاہر ہے کہ وہ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ یہ پندرہ روز کی حرف بحرف مکمل کارروائی ہے۔اب یہ واضح کرنا تھا کہ 2000 ء تک تو یہ کارروائی خفیہ رکھی گئی تھی انہیں یہ مکمل مواد کہاں سے ملا کہ انہوں نے شائع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ پہلے چند ممبران اسمبلی کو جو روزانہ کی کارروائی دی جاتی تھی وہ ان ممبران نے اللہ وسایا صاحب کو دے دی تھی اور ان کے پاس محفوظ تھی اور اس کے بعد جنوبی افریقہ میں جماعت احمدیہ کے خلاف ہونے۔96