احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 79
published by Singapore University Press 1983p 33-39) (Crossed Swords, by Shuja Nawaz, published by Oxford University Press p 99) سیاست کے میدان میں ہمیشہ مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔ہر کوئی آزاد ہے جس رائے کو چاہے پسند کرے اور اس کی حمایت کرے۔اس تحریر کا مقصد کوئی سیاسی بحث کرنا نہیں ہے لیکن ان تاریخی حقائق کی موجودگی میں یہ دعویٰ کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب امریکہ کے لئے کام کر رہے تھے اور اس کے عوض امریکہ کچھ مدد کر دیتا تھا ایک بچگانہ مفروضے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔حقائق اس مفروضے کی مکمل تردید کر رہے ہیں۔ایم ایم احمد کے سیکرٹری خزانہ بننے کے بعد امریکی مدد پر کیا اثر پڑا؟ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ اس فیصلہ میں یہ تاثر پیش کیا گیا ہے کہ ایم ایم احمد کو پاکستان کا سیکرٹری خزانہ بنایا گیا تو امریکہ کی امداد تیزی سے بڑھنی شروع ہوئی اور پاکستان کا اس امداد پر انحصار بڑھ گیا اور پاکستان کو اس کے عوض امریکہ کے لئے دوستی کے اقدامات اُٹھانے پڑے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ 1952ء سے لے کر 1963 ء تک امریکہ کی مدد کئی گنا ہوگئی۔حقیقت یہ ہے کہ اس دور کا ایم ایم احمد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ایم ایم احمد تو 6 مارچ 1963ء کو سیکرٹری خزانہ بنے تھے اور 30 مئی 1966 ء تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔حقیقت یہ ہے کہ 1962ء میں امریکی مددسب سے زیادہ تھی اور اس کے بعد یہ مدد کم ہوتی رہی۔1963ء میں امریکہ کی اقتصادی مدد 2066 ملین ڈالر تھی اور 1966ء میں یہ مددکم ہو کر 816 ملین ڈالر رہ گئی۔اور 1963ء میں امریکہ کی ملٹری مدد 299 ملین ڈالر تھی جو کہ 1966ء میں کم ہو کر صرف 8 ملین ڈالر رہ گئی۔گویا اُن سالوں میں جن میں ایم ایم احمد سیکرٹری خزانہ تھے امریکہ کی مدد پر انحصار کئی گنا کم ہو گیا تھا۔79