احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 78
امریکہ نے بھی اس یادداشت کے ساتھ دستخط کئے تھے کہ امریکہ صرف کمیونزم کی جارحیت کو روکنے کے لئے عسکری طور پر اس معاہدہ میں شامل ہوگا۔دوسری طرف چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا موقف یہ تھا پاکستان کو فائدہ تبھی ہے کہ جب بھی پاکستان کو جارحیت کا سامنا ہو اس وقت امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان کی عسکری مدد کریں۔مثلاً اگر کشمیر پر جنگ ہو جائے تو اس معاہدے کی رُو سے ان طاقتوں کو پابند ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان کی مدد کریں۔ورنہ پاکستان صرف یکطرفہ طور پر اپنی افواج کی مدد پیش کرنے کا پابند ہو گا اور اس کا نفرنس کے موقع پر خاص طور پر امریکہ کے وزیر خارجہ Dulles اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا واضح اختلاف سامنے آیا تھا۔جب معاہدے پر دستخط کرنے کا مرحلہ آیا تو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس کو منظور کرنے کے لئے دستخط نہیں کئے بلکہ اس عبارت پر دستخط کئے تھے کہ یہ معاہدہ حکومت پاکستان کو بھجوایا جائے گا وہ پاکستان کے آئین کے مطابق اس معاہدے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔اس کے معا بعد چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزارت خارجہ سے رخصت ہو گئے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے استعفیٰ کے فوراً بعد پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے امریکہ کا دورہ کیا۔تقریباً تین ماہ کے بعد ہی محققین کے مطابق جن کے حوالے درج کئے جارہے ہیں، پاکستان نے امریکہ کے دباؤ کے باعث امریکہ کی سابقہ شرائط پر ہی اس معاہدہ کو منظور کر لیا اور اس کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ملٹری مددملنی شروع ہوئی۔اب جبکہ ان واقعات کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں ، یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان کے مفاد میں یہی تھا کہ وہ انہی شرائط پر معاہدے میں شامل ہوتا جن کو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پیش کر رہے تھے۔(SEATO The Failure of an Alliance Strategy, by Leszek Buszynski, 78