احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 77 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 77

ظفر اللہ خان صاحب کو ہٹاتے ہوئے اس لئے جھجک رہی تھی کیونکہ اگر انہیں ہٹایا جا تا تو امریکہ مدد بند کر دیتا۔اور یہ سب جانتے ہیں کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے 1954ء میں وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اوپر کے حوالے میں اعتراف کیا گیا ہے اور ہم نے گزشتہ قسط میں اعداد و شمار بھی پیش کئے تھے کہ اس کے بعد بھی 1963 ء تک امریکہ کی مدد میں کئی گنا کا اضافہ ہوتا رہا۔اور بعد کے جملے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ اس لئے ہورہا تھا کہ مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کو سیکرٹری خزانہ لگا دیا گیا تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایم ایم احمد مارچ 1963 ء میں سیکرٹری خزانہ بنے اور مئی 1966 ء تک اس عہدے پر مقرر رہے۔خود اس عدالتی فیصلہ میں درج اعداد و شمار کے مطابق امریکی مدد میں بہت تیزی سے اضافہ آپ کے سیکرٹری خزانہ بننے سے قبل ہوا۔جیسا کہ گزشتہ قسط میں عرض کیا گیا تھا کہ جب تک چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ تھے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو کوئی ملٹری ایڈ نہیں ملی تھی اور آپ کے استعفی کے بعد اس مدد میں تیزی سے اضافہ ہوا لیکن اس کی وجہ کیا تھی ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان سالوں میں مسلسل امریکہ کی حکومت کا موقف یہ تھا کہ پاکستان سے عسکری تعاون کیا جائے گالیکن پاکستان کی افواج کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اور مشرق وسطی میں امریکہ کے اتحادیوں کی حفاظت کے لئے امریکہ کی مدد کریں گی لیکن کشمیر کے معاملہ میں اور بھارت کے ساتھ تنازعہ میں امریکہ پاکستان کی مدد نہیں کرے گا اور غیر جانبدار رہے گا۔بحیثیت وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے آخری مذاکرات منیلا کا نفرنس کے موقع پر تھے جبکہ سیٹو (SEATO) کے قیام کے لئے مذاکرات ہو رہے تھے اور امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور دوسرے کئی ممالک کے وزراء خارجہ بھی اس کا نفرنس میں شریک تھے۔اس موقع پر بھی 77