احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 70 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 70

مارچ 1953ء کے واقعات جماعت احمدیہ کے خلاف یہ فسادات ممتاز دولتانہ صاحب کی پنجاب حکومت کے زیر سایہ پھلتے پھولتے بالآخر مارچ 1953ء میں صوبہ پنجاب میں بالعموم اور لاہور شہر میں شدت اختیار کر گئے۔پہلے ڈائریکٹ ایکشن کی دھمکی دی گئی ، پھر جماعت احمدیہ کے مخالفین نے ڈائریکٹ ایکشن کا آغاز کر دیا۔احمدیوں کی قتل و غارت اور ان کے گھروں اور اموال کی لوٹ مارعروج پر پہنچ گئی۔پولیس مظلوم احمدیوں کی مدد کو آنے کی بجائے بلوائیوں کا ساتھ دے رہی تھی۔خاص طور پر لاہور میں مولوی حضرات تقریریں کر رہے تھے کہ یہ بدامنی قتل وغارت اور لوٹ مار باعث ثواب ہے۔ممتاز دولتانہ صاحب اس شورش کی بیساکھیوں کے سہارے اپنا سیاسی قد بڑھانا چاہتے تھے اور خواجہ ناظم الدین صاحب کی مرکزی حکومت کے خلاف اس شورش کا رخ پھیر کر وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے تھے لیکن آخر میں صورت حال اُن کے بھی قابو سے باہر ہو گئی۔فسادی دولتانہ صاحب کا نہیں اپنا ایجنڈا پورا کر رہے تھے۔اس عدالتی فیصلہ کے صفحہ 43 پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ربوہ ریاست کے اندر نیم آزادریاست کی حیثیت رکھتا تھا۔ریاست کے اندر ریاست تب بنتی ہے جب کسی مقام پر حکومت وقت کی عملداری ختم ہو کر جزوی یا کلی طور پر کسی اور گروہ کے ہاتھ میں چلی جائے۔1953ء کے حوالے سے ہی دیکھ لیں ساری عدالتی کارروائی پڑھ جائیں ربوہ کے اندر قانون شکنی کا ایک واقعہ نہیں ہوا، کوئی قتل و غارت نہیں ہوئی اور فسادیوں کا مرکز لا ہور میں مسجد وزیر خان تھی وہاں کیا کیفیت تھی؟ 4 مارچ کو جماعت احمدیہ کے مخالفین نے پولیس افسران کو اغوا کر کے لے جانے کا سلسلہ شروع کیا اور انہیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔اشتہار لگائے گئے کہ پولیس ہتھیار ڈال دے، ہم حکومت کے خلاف جہاد کر رہے ہیں اور 6 مارچ کو تحقیقاتی عدالت 70