احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 30 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 30

حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے دعاوی اور جماعت احمدیہ کے بنیادی عقا ئد نہیں ہو سکتے کیونکہ 1908ء میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات ہو چکی تھی اور آپ کے دعاوی مکمل طور پر دنیا کے سامنے آچکے تھے۔اس کے علاوہ اس فیصلہ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ جب کشمیر کمیٹی کا اجلاس ہوا تا کہ مسلمان مظلوم کشمیری مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کے لئے جد و جہد کر سکیں تو اُس وقت خود علامہ اقبال کی تجویز اور اصرار پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کمیٹی کا صدر بنایا گیا۔اس وقت کشمیر کے مسلمان ڈوگرہ راجہ کے مظالم کی چکی میں پس رہے تھے اور انہیں بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں تھے۔اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ ایک طرف تو یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ نعوذ باللہ انگریزوں نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا تھا اور جماعت احمدیہ کے بنیادی عقائد ہی ایسے ہیں کہ وہ خود بخو دا سلام سے خارج ہو جاتے ہیں بلکہ ثابت ہو جاتا ہے کہ نعوذ باللہ ان سے اسلام کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔دوسری طرف مسلمانوں کا ایک نمایاں لیڈر اعتراف کرتا ہے کہ اگر کسی میں اشاعت اسلام کا جوش ہے تو جماعت احمدیہ میں ہے۔اگر کوئی اس دور میں اسلامی سیرت کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہے تو قادیان جا کر دیکھے۔اپنے نکاح کے بارے میں شبہ ہو تو امام جماعت احمدیہ سے راہنمائی کی جائے۔اور اگر مظلوم مسلمانوں کے لئے جد و جہد کرنی ہو تو امام جماعت احمدیہ سے اس مہم کی قیادت کرنے کی درخواست کی جائے۔یہ تضادات ایسے نہیں جنہیں نظر انداز کیا جاسکے۔جیسا کہ حوالہ درج کیا گیا ہے عدالتی فیصلہ میں یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ جب امام جماعت احمدیہ کی قیادت میں کشمیر کمیٹی نے کام شروع کیا تو علامہ اقبال پر قادیانیت کی 30