احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 29
1910-2ء میں انہوں نے علیگڑھ کالج میں ایک لیکچر دیا اور اس میں فرمایا کہ اس دور میں فرقہ قادیانی اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ ہے۔3۔1936ء میں تحریر کیا کہ اشاعت اسلام کا جوش جو جماعت احمدیہ کے افراد میں پایا جاتا ہے قابل قدر ہے۔زنده رود مصنفہ جاوید اقبال صاحب، ناشر سنگ میل پبلیکیشنز لاہور 2008 صفحہ 208,638) 4۔1913ء میں علامہ اقبال کو شبہ ہوا کہ ان کی منکوحہ سردار بیگم صاحبہ سے ان کا نکاح قائم ہے کہ نہیں تو انہوں نے اپنے دوست مرزا جلال الدین صاحب کو فتوی دریافت کرنے کے لیے قادیان بھجوایا جنہوں نے اس بابت بانی سلسلہ احمدیہ کے پہلے خلیفہ حضرت مولانا نورالدین صاحب سے اس بابت فتوی دریافت کیا اور علامہ اقبال نے اس فتویٰ پر عمل بھی کیا۔5۔علامہ اقبال نے پہلی شادی سے اپنے بڑے بیٹے آفتاب اقبال صاحب کو پڑھنے کے لیے قادیان کے سکول میں بھجوایا۔زنده رود مصنفہ جاوید اقبال صاحب، ناشر سنگ میل پبلیکیشنز لاہور 2008 صفحہ 631,630) علامہ اقبال کے متعلق ان باتوں کی جاوید اقبال صاحب نے تردید نہیں کی بلکہ ان جیسی باتوں کو درج کر کے مکرم ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب نے یہ جواز پیش کیا ہے کہ اقبال کو 1935 ء سے قبل اس جماعت سے اچھے نتائج کی امید تھی لیکن ایک زندہ شخص ہونے کی حیثیت سے انہیں اپنی رائے بدلنے کا حق تھا۔اور وہ ہمیشہ سے جماعت احمدیہ سے عقائد کا اختلاف رکھتے تھے۔ہمیں ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کی اس بات سے اتفاق ہے کہ ہر شخص کو اپنی رائے بدلنے کا حق حاصل ہے لیکن اس رائے کی تبدیلی کی کوئی بھی وجہ ہو اس کی وجہ 29