احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 309
ترجمہ: ان وجوہات کی بناء پر فقہاء نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ جو بھی اذان دے اس سے مسلمانوں جیسا سلوک کرنا چاہیے۔اگر لوگ ایک ذمی کے بارے میں یہ گواہی دیں کہ اُس نے اذان دی ہے تو اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔خود وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ اسلامی تعلیم یہی ہے کہ جو اذان دے اسے مسلمان سمجھو۔اس کی وجہ ظاہر ہے کہ کیونکہ اذان میں کلمہ شہادت موجود ہے۔جو اذان دے وہ خدا کی وحدانیت اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرتا ہے اسے مسلمان سمجھنا چاہیے۔اس اقرار کے بعد ہر پڑھنے والا یہی توقع کرے گا کہ یہ نتیجہ نکالا جائے گا کہ چونکہ احمدی 1974ء سے پہلے اور بعد میں اذان دیتے تھے۔اس لئے انہیں مسلمان ہی سمجھنا چاہیے اور اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ پاکستان کے آئین میں دوسری آئینی ترمیم بلا جواز اور غیر اسلامی تھی لیکن جنرل ضیاء صاحب کی حکومت نے اور پھر 1984ء میں پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے یہ نتیجہ نکالا کہ احمدیوں کی اذانوں پر ہی پابندی لگادی یعنی نہ احمدی اذان دیں اور نہ انہیں مسلمان سمجھنا پڑے اور اس طرح وفاقی شرعی عدالت نے جنرل ضیاء صاحب کا آرڈینس برقرار رکھا اور اس بات کو قبول نہیں کیا کہ یہ آرڈینس اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔کوئی بھی ذی ہوش اس منطق کو درست نہیں قرار دے سکتا۔دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ جب 1978ء میں ڈیرہ غازی خان کی مسجد کا مقدمہ لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوا تھا اور اُس وقت بھی جماعت احمدیہ کے مخالفین نے یہ دلائل پیش کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر اذان جیسے شعائر غیر مسلم استعمال کریں ( یا وہ استعمال کریں جنہیں انہوں نے بزعم خود غیر مسلم قرار دیا ہے۔تو یہ ان شعائر کی بے حرمتی ہے۔اس پہلو کے بارے میں 1978ء میں جسٹس آفتاب حسین صاحب نے اپنے فیصلہ میں لکھا تھا۔309