احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 294
اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور یقیناًاللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔یقیناً اللہ بہت طاقتور ( اور ) کامل غلبہ والا ہے۔اس دلیل کا لب لباب یہ تھا کہ اس آیت میں عیسائیوں اور یہود کی عبادتگاہ کے لئے مسجد کے علاوہ دوسرے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور تفسیر جلالین کا حوالہ دیا کہ اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: ”بیع سے مراد نصاری کی خانقاہیں اور عبادت گاہیں ہیں اور صلوات “ سے مراد یہود کے معابد ہیں۔اس کے بعد قاضی مجیب صاحب نے تفسیر مظہری کا حوالہ پیش کیا کہ ’مساجد سے مراد مسلمانوں کی مساجد ہیں۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ان دونوں تفاسیر میں بھی سورہ کہف کی آیت 22 کی تفسیر کرتے ہوئے اصحاب کہف کی یاد میں بننے والی عمارت کو مسجد ہی کہا گیا ہے اگر چہ یہ واقعہ ظہور اسلام سے قبل کا ہے۔قاضی مجیب صاحب کی دلیل میں نقص یہ تھا کہ مکرم مجیب الرحمن ایڈووکیٹ صاحب اور دیگر Petitioners نے یہ دعوی نہیں پیش کیا تھا کہ یہود و نصاریٰ کے معاہد کے لئے ہمیشہ مسجد“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ان کی طرف سے یہ دلیل پیش کی گئی تھی کہ قرآن وحدیث میں ان مذاہب کی عبادت گاہوں کے لئے مسجد کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔اور احادیث سے ثابت ہے کہ اپنی مبارک زندگی کے آخری دنوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مذاہب کی عبادت گاہوں کے لئے مسجد کا لفظ استعمال کیا ہے۔اس طرح قرآن وحدیث کی رو سے یہ پابندی نہیں لگائی جاسکتی کہ مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو مسجد“ کے نام سے نہیں پکارا جا سکتا۔قاضی مجیب صاحب نے 23 جولائی کو ان دلائل سے دفاع کے لئے یہ مؤقف اپنایا کہ اسلامی اصطلاحات تین اقسام کی ہیں۔عرف عام،عرف خاص اور عرف شرعی اور بعض وو 294