احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 229 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 229

واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسی تعریف کو جائز نہیں سمجھتے جو کتاب اللہ اور خودسرور کائنات سینا یہ تم کی فرمائی ہوئی تعریف کے بعد کسی زمانہ میں کی جائے۔“ ( کارروائی صفحہ 2364) مولوی عبد الحکیم صاحب کا جماعت احمدیہ کے مؤقف پر حملہ تو واضح ہے لیکن وہ کیا نتیجہ پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے ؟ اس کا جواب واضح ہے کہ وہ یہ نتیجہ پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ مناسب یہی ہے کہ پاکستان کے آئین میں مسلمان کی ایسی تعریف شامل کی جائے جو قرآن کریم اور رسول اللہ صلی ایتم کی بیان فرمودہ تعریف سے مختلف ہو جبکہ آئین تو انہیں اس بات کا پابند کرتا تھا کہ وہ فیصلہ قرآن کریم اور سنت کے مطابق کریں۔کون سا طبقہ بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کا حامی ہے؟ یہ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سا طبقہ ہے جو کہ آئین میں درج بنیادی حقوق کے خلاف رائے رکھتا ہے اور اس کا اظہار کر چکا ہے اور اگر یہ پابندی نہ قائم رکھی گئی کہ ان بنیادی حقوق میں مملکت کے کسی قانون سے بھی کمی نہیں کی جاسکتی تو وہ یقینی طور پر ان بنیادی حقوق کے قوانین میں ترمیم کرنے کی کوشش کرے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب پاکستان کے موجودہ آئین کا مسودہ تیار ہو کر قومی اسمبلی میں پیش ہو رہا تھا تو مولوی حضرات نے اس آئین کو اسلامی بنانے کے لئے بہت سی تجاویز پیش کی تھیں۔ایک تجویز تو یہ تھی کہ اگر اسلامی آئین چاہیے تو یہ کام تین علماء کے سپر د کر دیا جائے۔باقی کسی کی ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ مولوی نعمت اللہ صاحب نے تجویز پیش کی تھی کہ کوثر نیازی صاحب، مولوی عبدالحق صاحب اور مولوی غلام غوث ہزاروی صاحب کے سپر د اسلامی آئین بنانے کا کام کیا جائے اور وہ تین ماہ میں یہ کام کر دیں اور ساتھ یہ انتباہ کیا تھا: 229