احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 228
سنت نبوی کو بنیاد بنا کر یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ کسی بھی اہم کام کو کرنے سے قبل کچھ بنیادی اصول طے کرنے پڑتے ہیں۔اسی طرح اگر مسلمان کی ایسی تعریف کرنی تھی جس پر تمام ملت اسلامیہ کا اتفاق ہو سکے تو ضروری تھا کہ اس کے کچھ بنیادی اصول طے کر لیے جائیں جن پر بنیا درکھ کر مسلمان کی تعریف کی جا سکے اور نہ یہ عمل ملت اسلامیہ کے اتحاد اور اخوت میں رخنہ ڈالنے کا سبب بھی بن سکتا تھا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے جو مندرجہ بالا اصول بیان کیے گئے تھے وہ ایسے تھے کہ جن سے کسی مسلمان کو اختلاف نہیں کرنا چاہیے تھا۔جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں کچھ آیات اور رسول اللہ صلی ا یتیم کی کچھ احادیث بھی پیش کی گئی تھیں تا کہ ان کو معیار بنا کر فیصلہ کیا جائے۔اس کے جواب میں مفتی محمود صاحب نے یہ نظریہ پیش کیا کہ رسول اللہ صلی الیتیم کی حدیث شریف میں جو مسلمان کی تعریف بیان کی گئی ہے وہ جامع و مانع تعریف نہیں ہے۔گویا جو تعریف رسول اللہ سال میں ہی تم نے بیان فرمائی وہ تو مکمل اور قانونی تعریف نہیں تھی اور جو تعریف پاکستان کی قومی اسمبلی تیار کرے گی وہ مکمل اور صحیح ہو گی اگر یہ گستاخی نہیں تو اور گستاخی کس کو کہتے ہیں؟ کارروائی سپیشل کمیٹی 1974 ، صفحہ 1992) جب مولوی عبد الحکیم صاحب نے اس تجویز پر اپنی رائے کا اظہار کیا تو اس کا آغاز اس طنز سے کیا: اب جبکہ ملک میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ میں میں سال کے بعد پھر طاقت آئی ہے تو مرزائیوں کو بھی مسلمان کی تعریف کا شوق چرایا تا کہ ہم کسی نہ کسی طرح مسلمانوں میں شمار ہو جا ئیں۔اس عنوان کے تحت صفحہ 15 پر مرزائی محضر نامہ کے بیان سے 228