احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 225 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 225

ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ پاکستان میں ہر شخص کو اپنا مذہب profess کرنے کی آزادی ہے۔اور سوال و جواب کے پہلے روز اٹارنی جنرل صاحب نے بھی یہی نظریہ پیش کیا تھا کہ اگر آئین میں جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے تو اس سے ان کے اپنے مذہب کو profess کرنے کے حق پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔کارروائی سپیشل کمیٹی 1974 ، صفحہ 129 ) Profess کا ہے: Affirm one's faith in or allegiance to a religion or set of beliefs اردو میں اس کا مطلب ہے کہ دعوی کرنا اور اقرار کرنا۔اگر آئین میں ترمیم کر کے قانون اور آئین کی اغراض کے لئے ایک فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا جائے تو کم از کم سرکاری کا رروائی میں یا سرکاری کاغذات میں وہ اپنے آپ کو مسلمان درج نہیں کر سکیں گے۔احمد یوں کا مذہب کیا ہے؟ یہ فیصلہ اور اس کا اعلان کرنے کا حق بھی انہی کا ہے۔اگر انہیں اس سے روکا جائے گا تو ان کا اپنے مذہب کو profess کرنے کا حق بہر حال متاثر ہو گا۔اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ میں احمدیوں کے اُن بنیادی حقوق پر پابندی لگانے کا ذکر بار بار کیا گیا ہے جو آئین پاکستان کے باب اول میں درج ہیں۔غیر قانونی ترمیم اور غیر قانونی مجوزہ قوانین جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود آئین کی رو سے اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی رو سے مملکت کے کسی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستان کے کسی شہری کے ان بنیادی حقوق میں سے کسی کو کم یا منسوخ کر سکے۔اس عدالتی فیصلہ میں یہ سوال بار بار اُٹھایا گیا ہے کہ 225