احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 224 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 224

بن جائے گا اور عام قوانین بھی عدالت کے جائزہ سے بالا ہوں گے کیونکہ انہیں کسی ترمیم کی پشت پناہی حاصل ہے اور اس ترمیم کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے ایک مقدمہ کی سماعت کے بعد جو فیصلہ دیا اس میں لکھا: "Basic structural pillars of the Constitution cannot be changed by amendment۔" ترجمہ: آئین کے بنیادی ستونوں کو ترمیم کے ذریعہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔(Anwar Hossain Chowdhury Vs۔Bangladesh, 1989, 18 CLC (AD) اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہو چکی ہیں اور اب بھی یہ بحث جاری ہے لیکن یہ امر قابل توجہ ہے کہ برصغیر کی تینوں پارلیمانی جمہوری ممالک کی سپریم کورٹس کا آخری فیصلہ یہی ہے کہ پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار نہیں ہے۔پاکستان کے آئین میں بنیادی حقوق کے باب کے آغاز پر ہی یہ پابندی درج ہے: (1) کوئی بھی قانون یا رسم یا رواج جو قانون کا حکم رکھتا ہو ، تناقض کی اس حد تک کالعدم ہو گا جس حد تک وہ اس باب میں عطا کردہ حقوق کا نقیض ہو۔(2) مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گی جو بایں طور عطا کردہ حقوق کو سلب یا کم کرے اور ہر وہ قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا جائے اس خلاف ورزی کی حد تک کالعدم ہوگا۔اور اس باب میں ہی مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے ، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا۔آخر میں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ اس قرارداد کی منظوری سے قبل وزیر اعظم 224