احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 192
particular state۔" (Constituent Assembly of Pakistan Debates, Vol no۔5 p 5 12th March 1949 p 94-95) ترجمہ: میں بخوبی سمجھ سکتا ہوں کہ وہ ملاقات کرنے کیوں آئے تھے اور یہ لٹریچر کیوں دیا گیا تھا ؟ بعض لوگ ایسے ہیں جو پاکستان کو منتشر اور تباہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ نام نہاد علماء جو آپ کے پاس آئے تھے وہ اسی مشن کے ساتھ آئے تھے تا کہ آپ کے ذہن میں پاکستان کے مسلمانوں کی حسن نیت کے بارے میں شک ڈالیں۔خدا کے لئے ان لوگوں کے شر انگیز پراپیگنڈا پر کان نہ دھریں۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں اور اس طبقہ کو جو پاکستان کو منتشر کرنا چاہتا ہے یہ انتباہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اسے مزید برداشت نہیں کریں گے۔ان لوگوں نے آپ کے سامنے اسلامی نظریات کی غلط ترجمانی کی ہے اور یہ لوگ اپنے آپ کو اسلام کا دوست اور حمایتی ظاہر کرتے ہیں اور اصل میں اسلام کے دشمن ہیں۔۔۔جناب ! میرے دوست نے بتایا کہ ان لوگوں نے انہیں بتایا کہ ایک اسلامی ریاست میں یعنی اُس ریاست میں جو کہ اس قرار داد کے مطابق وجود میں آئے گی۔کوئی غیر مسلم انتظامیہ کا سر براہ نہیں ہو سکتا۔یہ بالکل غلط ہے۔ایک غیر مسلم آئینی حکومت میں انتظامیہ کا سر براہ ہوسکتا ہے۔ان محدود اختیارات کے ساتھ جو کہ کسی ریاست کے آئین میں کسی شخص یا ادارے کو دیئے جاتے ہیں۔یہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کا پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں بیان ہے اور لیاقت علی خان صاحب تو یہ اقرار کر رہے ہیں کہ مولویوں کا ایک طبقہ تنگ نظری کے خیالات کو پھیلا کر ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ تو یہ نظریہ پیش کر رہے ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر پاکستان میں کسی شخص کو سر براہ حکومت بننے سے بھی نہیں روکا جا سکتا۔یہ دونوں باتیں 192