احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 184
سینٹ نے انہیں خلاف ضابطہ قرار دیا لیکن وفاقی وزیر داخلہ نسیم آہیر صاحب نے بتایا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ اسلم قریشی صاحب نے اپنے اہل خانہ کو بھی بتانا مناسب نہ سمجھا۔ان کی ایران میں موجودگی کی اطلاع زاہدان میں پاکستان کے قونصل جنرل نے کی تھی اور اسی اطلاع پر جب وہ پاکستان میں داخل ہورہے تھے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔عذر گناه بدتر از گناه (نوائے وقت 3 اگست 1988ء) اب مزید شرمندگی سے بچنے کے لئے جماعت احمدیہ کے مخالفین نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کئے۔اسلم قریشی صاحب نے عدالت میں جا کر بیان تبدیل کیا کہ اصل میں میرا گزشتہ بیان غلط تھا، مجھے قادیانیوں نے اغوا کیا تھا اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔(Dawn August 2, 1988، Pakistan Times 2August (1988) چند دنوں کے لئے جماعت کے مخالف رسائل نے یہ لکھا کہ لوجی ! اسلم قریشی نے قادیانیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔پھر یہ شائع کیا کہ یہ کیا سے کیا ہو گیا۔اسلم قریشی صاحب کی برین واشنگ کر دی گئی ہے لیکن پھر شاید کسی عقلمند نے مشورہ دیا کہ چپ رہو یہ تو ممکن نہیں کہ آدمی ربوہ قادیانیوں کی قید میں ہو اور اس کا بچہ ایران میں پیدا ہو جائے اور ویسے بھی پاکستانی قونصل ان کا پیچھا ایران سے کر رہا تھا۔اس کے بعد یہ مخالفین خاموش ہو کر بیٹھ گئے اور یہ واویلا بند کر دیا گیا۔حقیقت کھل چکی تھی۔چٹان 2 تا 9 اگست 1988 ، چٹان 12 تا 19 جولائی 1988ء) اسلم قریشی صاحب کو ایک مرتبہ پھر رہا کیا گیا۔اب یہ خوار پھر رہے تھے اور کوئی انہیں منہ لگانے کو تیار نہیں تھا۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بننے کے لئے جماعت احمدیہ 184