احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 173
جلسوں میں تردید کرنی پڑی کہ وہ قادیانی نہیں ہیں اور جب ایک اجتماع کے سامنے جس میں علماء کی بڑی تعداد شامل تھی جنرل ضیاء صاحب نے یہ تردید کی تو بڑی دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔اس پر جنرل صاحب نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ بات یہاں تک بڑھ چکی ہے اور مجھے آپ کی تالیوں سے اندازہ ہوا ہے کہ یہاں اس چیز کو بڑی ہوا دی گئی ہے اور اس کے ساتھ جماعت احمدیہ کے مخالف جرائد یہ لکھ رہے تھے کہ ملک بھر میں یہ تاثر موجود ہے کہ حکومت قادیانیوں کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔اس کا مقصد یہی تھا کہ حکمرانوں پر جماعت احمدیہ کے خلاف سخت ترین قدم اُٹھانے کے لیے دباؤ بڑھایا جائے۔چٹان 19 تا 28 ستمبر 1983 صفحہ 6 اب اسلم قریشی صاحب کی گمشدگی کو تقریباً چھ ماہ گزر چکے تھے۔امام کعبہ نے بھی ان کی بازیابی کے لئے خط لکھا۔اکتوبر 1983 ء میں ربوہ میں اسلم قریشی صاحب کی گمشدگی کے سلسلہ میں ایک جلسہ کیا گیا۔اس میں سعودی عرب کی نمائندگی الشیخ عبد اللہ بیٹی صاحب نے اور رابطہ عالم اسلامی کی نمائندگی ظہور الحق ظہور صاحب نے کی۔1974 ء کی طرح سعودی عرب اور رابطہ عالم اسلامی کی آشیر بادنظر آ رہی تھی اور اس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ سعودی حکام بھی اسلم قریشی صاحب کے اغوا سے کافی پریشان رہ رہے ہیں۔اور اس کا کچھ ذکر ایک گزشتہ قسط میں گذر چکا ہے۔اسی جلسہ میں جماعت احمدیہ کے چوٹی کے مخالف مولوی تاج محمود صاحب جب اسلم قریشی صاحب کے صاحبزادے صہیب کو سٹیج پر لائے تو اس پر ہفت روزہ ختم نبوت کی رپورٹ تھی کہ سب کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور مجمع پر سکتہ چھا گیا اور خود مولوی تاج محمود صاحب بھی اتنی رفت میں آئے کہ آواز نہ نکل سکی۔ختم نبوت کراچی 12 تا 18 نومبر 1983 صفحہ 5,4) 173