احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page xvii of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page xvii

اس فیصلہ میں انہوں نے جماعت احمدیہ کے اشد مخالف اور شریعت کورٹ کے سابق حج ڈاکٹر محمود اے غازی صاحب کی ایک تحریر درج کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے 1857ء کی جنگ کے بعد ہندوستان پر قابض برطانوی حکومت کو مسلمانوں میں موجود جذ بہ جہاد کی بہت فکر تھی اور اس جذبہ کو دبانے کے لئے انہوں نے ایک pseudo-religious لیڈر کو کھڑا کرنے کا منصوبہ بنایا جو کہ جہاد کے خلاف فتاوی دے اور غازی صاحب کے مطابق یہ لیڈر جماعت احمدیہ کے بانی تھے۔اور اس طرح ہندوستان کے مسلمانوں کو جہاد سے دور کرنے کی سازش پر عمل شروع ہوا۔( صفحہ 40 - 42 ) اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ میں مودودی صاحب اور شورش کا شمیری صاحب کی تحریریں درج کرنے کے علاوہ بشیر احمد کی کتاب Ahmadiyya Movement کے حوالے دے کر یہی بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اصل میں جماعت احمدیہ کو ہندوستان پر قابض برطانوی حکومت نے کھڑا کیا تھا تا کہ وہ مسلمانوں میں جہاد کے خلاف پروپیگنڈا کر کے مسلمانوں میں جذبہ جہاد کو ختم کریں، مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوائیں ، ورنہ برطانوی حکومت کو ہر وقت یہ خطرہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمان ان کے خلاف کسی وقت بھی کھڑے ہو سکتے ہیں۔( صفحه 47 و53 ) یہ الزام پہلی مرتبہ نہیں لگایا گیا بلکہ جب سے ہندوستان سے برطانوی حکومت رخصت ہوئی ہے جماعت احمدیہ کے مخالفین یہی الزام لگا رہے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو انگریز حکومت نے مسلمانوں میں جذبہ جہاد ختم کرنے کے لئے قائم کیا تھا۔ہم اس الزام کو پر کھنے کے لئے