احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 128
ٹی ایچ ہاشمی کا موقف جب یہ تجاویز کمیٹی کے سامنے آئیں تو مختلف تنظیموں کے مندوبین نے ان سے اتفاق کیا اور اس قرارداد پر دستخط کر دیئے۔پاکستان کے سیکرٹری اوقاف ٹی ایچ ہاشمی صاحب نے بھی اس قرارداد پر دستخط کئے لیکن اتنا اختلاف کیا کہ انہیں ان تجاویز کے مذہبی حصہ سے اتفاق ہے لیکن انہیں اس تجویز سے اتفاق نہیں کہ قادیانیوں کو ملازمتوں میں لینے پر پابندی لگائی جائے۔اس کی جگہ انہیں غیر مسلم قرار دینا کافی ہوگا۔اس پر کمیٹی کے صدر جناب ڈاکٹر مجاہد الصواف نے کہا کہ علماء کے فتوے کے پیش نظر سعودی حکومت نے ایک شاہی فرمان کے ذریعہ اس بات پر پابندی لگادی ہے کہ قادیانی سعودی عرب میں داخل ہوں یا انہیں یہاں پر ملا زمت دی جائے۔اس طرح یہ قرارداد منظور کر لی گئی۔پاکستان کی طرف سے اوقاف کے فیڈرل سیکرٹری تجمل ہاشمی صاحب نے رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد پر دستخط کئے تھے اور ہم نے ایک کتاب کی تالیف کے دوران ان کا انٹرویو بھی لیا اور جب ان سے اس بابت یہ سوال کیا گیا تو ان کا کہنا یہ تھا: ”میرے لحاظ سے کسی کو کہہ دینا کہ یہ مسلمان ہے یا نہیں مسلمان۔یہ میں سمجھتا ہوں۔میں تو کسی کو نہیں کہہ سکتا کہ وہ میرے سے بہتر مسلمان ہے یا نہیں مسلمان ہے۔“ پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی کسی کو نہیں کہہ سکتا کہ وہ مسلمان ہے کہ نہیں ہے۔“ 66 اس کے باوجود یہ امر قابل توجہ ہے کہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کو حکومت نے نہیں کہا تھا کہ وہ اس قرارداد پر دستخط کریں۔اس کے باوجود جبکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ کسی شخص کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ یہ کہے کہ دوسرا شخص مسلمان ہے یا نہیں پھر بھی انہوں نے اس قرار داد پر دستخط کر دیئے اور اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رابطہ عالم اسلامی کی اور اس کی قراردادوں کی 128