احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 120
محضر نامہ میں درج ایک انتباہ آخر میں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں یہ کہا گیا تھا که اگر قومی اسمبلی نے اس طرز پر مذہب میں مداخلت کی تو جو صورتیں سامنے آئیں گی وہ بشمول پاکستان دنیا کے مختلف ممالک میں ان گنت فسادات اور خرابیوں کی راہ کھولنے کا موجب ہو جائیں گی۔“ اس عدالتی فیصلہ میں بھٹو صاحب اور ان کے اٹارنی جنرل بھی بختیار صاحب کی تقاریر کے متن شامل کئے گئے ہیں۔خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ چند سالوں بعد ایک مقدمہ میں بھٹو صاحب ملزم کے طور پر اور سیکی بختیار صاحب ان کے وکیل کے طور پر پیش ہورہے تھے۔یہ مقدمہ نواب محمد احمد قصوری کے قتل کا مقدمہ تھا۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں بھٹو صاحب کو سزائے موت سناتے ہوئے نام کا مسلمان قرار دیا۔سپریم کورٹ میں اپیل کرتے ہوئے بھٹو صاحب اور ظاہر ہے ان کے وکیل یکی بختیار صاحب نے بھی اس پر شدید احتجاج کیا اور سپریم کورٹ میں اپنی تقریر میں بھٹو صاحب کو یہ اقرار کرنا پڑا کہ ایک مسلمان کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ کلمہ پڑھتا ہے اور کلمہ پر یقین رکھتا ہے۔اور انہیں یہ بھی کہنا پڑا کہ اس سے بہتر تو یہ تھا کہ انہیں پھانسی دے دی جاتی۔عدالت عظمی سے چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو کا تاریخی خطاب، مترجم ارشا در اؤ، ناشر جمہوری پبلیکیشنز صفحه 30) بھٹو کا عدالتی قتل، مصنفہ مجاہد لاہوری، ناشر احمد پبلیکیشنز جنوری 2008 صفحہ 133 ) اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔آج پاکستان کے اندرونی حالات پر نظر ڈالیں یا اور مسلمان ممالک کے اندرونی حالات پر نظر ڈالیں یا مسلمان ممالک کے آپس کے تعلقات پر نظر ڈالیں حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ہر کوئی ان حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کر سکتا ہے کہ 120