احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 114
تاریخی تبصرہ کیا۔اس کے بعد اس فیصلہ کے صفحہ 59 سے صفحہ 70 تک اٹارنی جنرل صاحب کی اس تقریر کا متن درج کیا گیا ہے جو انہوں نے سپیشل کمیٹی میں دوسری آئینی ترمیم کے بارے میں بحث سمیٹتے ہوئے کی تھی۔جب ہم نے اس حصہ کا مطالعہ شروع کیا تو ایک ایسی صورت حال سامنے آئی جو افسوسناک ہی نہیں بلکہ المناک بھی تھی۔ایک ناقابل یقین نتیجہ سامنے آرہا تھا۔معزز عدالت کے فیصلہ میں اٹارنی جنرل صاحب کی تقریر کی عبارت کو تبدیل کر کے درج کیا گیا ہے۔پہلے پیشل کمیٹی میں پیش ہونے والے جعلی حوالے کیا کم تھے ؟ کہ اب اس کمیٹی کی کارروائی میں بھی تحریف کا سلسلہ شروع ہو گیا۔مکمل مواز نہ تو اس مضمون میں نہیں سما سکتا لیکن ہر کوئی قومی اسمبلی کی شائع کردہ کا رروائی اور اس فیصلے میں درج تقریر کے متن کو پڑھ کر موازنہ کر سکتا ہے۔دونوں انٹر نیٹ پر موجود ہیں۔یہ ایک طویل بحث ہوگی کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ اور مقصد کیا تھا؟ لیکن یہ ظاہر ہے کہ یہ تبدیلی بڑے پیمانے پر کی گئی ہے۔ہم صرف چند مثالوں پر اکتفا کریں گے۔جہاں اٹارنی جنرل صاحب وزیر قانون کی پیش کردہ موشن پڑھتے ہیں وہاں قومی اسمبلی کی شائع کردہ کارروائی میں کمیٹی کا دائرہ کا رواضح کرتے ہوئے الفاظ ہیں : To discuss the question of status in Islam of persons اس کو تبدیل کر کے فیصلہ میں یہ الفاظ اس طرح درج ہیں: To discuss the position or status of a person within the frame of Islam (page 61) وزیر قانون کے موشن کے اس حصہ میں اٹارنی جنرل صاحب نے اہم قانونی سقم کی نشاندہی کی تھی۔اس لئے الفاظ کو ہی تبدیل کر دیا گیا۔114