احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 98 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 98

گیا تھا شامل نہیں کیا گیا یعنی یہ کارروائی جماعت احمدیہ کے موقف کے بغیر شائع کی گئی ہے۔مخالفین جماعت نے جو ضمیمے جمع کرائے تھے وہ تو شائع کئے گئے لیکن جماعت احمدیہ نے جو ضمیمے جمع کرائے تھے انہیں اشاعت میں شامل نہیں کیا گیا۔اس سے زیادہ تحریف کیا ہو سکتی تھی ؟ بہر حال یہ حقیقت ہے ان صاحب کی دیانتداری کی جنہیں عدالتی فیصلہ میں نامور سکالر قرار دیا گیا ہے۔اور جب جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ حقیقت حال شائع کی گئی تو اللہ وسایا صاحب بجائے اس کے کہ اپنی غلطی تسلیم کرتے یا اپنے موقف کے حق میں کوئی دلیل پیش کرتے الٹا کو سنے دینے پر اُتر آئے۔اور انہوں نے اپنی کتاب قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ میں لکھا ” حکومتی سطح پر اس کا رروائی کے اوپن ہوتے ہی قادیانیوں نے ایک کتاب شائع کی۔خصوصی کمیٹی میں کیا گذری۔کتاب کیا ہے۔تمسخر، بدکلامی اور پھبتیوں کا مجموعہ قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ۔جلد اوّل۔مرتب اللہ وسایا صاحب۔ناشر عالمی مجلس ختم نبوت ملتان - ستمبر 2013 صفحہ 18 ) بڑے ادب سے عرض ہے کہ سوال تو یہ اُٹھایا گیا تھا کہ پہلے آپ نے اس کا رروائی کی مکمل رپورٹ شائع کی جو کہ 287 صفحات پر مشتمل تھی۔پھر آپ نے ہی یہ کمل کا رروائی شائع فرمائی جو کہ اچانک 2900 صفحات سے بھی زیادہ کی ہو گئی۔ان میں سے کون سی جعلی ہے اور کون سی اصلی؟ بس اس کا جواب مرحمت فرما دیں لیکن اللہ وسایا صاحب نے یہ مہربانی کرنے کی بجائے اس دوسری اشاعت کی جلد اول کے صفحہ 19 پر یہ عذر پیش کیا۔قادیانیوں نے اس کتاب میں کیا کہا۔اس کا نوٹس ہی نہیں لیا اور اس کے علاوہ وہ کوئی جواب پیش نہیں فرما سکے۔حقائق درج کر دیئے گئے ہیں پڑھنے والے خود فیصلہ فرما سکتے ہیں۔98