اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 5

دیں کہ جن سے صحابہ اور ان کے ذریعہ سے اسلام پر حرف آوے۔چونکہ اس وقت مسلمانوں کی عینک جس سے وہ ہر ایک چیز کو دیکھتے ہیں یہی غیر مسلم مؤرخ ہو رہے ہیں اس لئے جو کچھ انہوں نے بتایا انہوں نے قبول کر لیا۔جن لوگوں کو خود عربی تاریخیں پڑھنے کا موقع ملا بھی انہوں نے بھی یورپ کی ہائر کریٹیسیزم (Higher Criticism) (اعلی طریق تنقید سے ڈر کر ان بے سروپا اور جعلی روایات کو جن پر یورپین مصنفوں نے اپنی تحقیق کی بناء رکھی تھی صحیح اور مقدم سمجھا اور دوسری روایات کو غلط قرار دیا۔اور اس طرح یہ زمانہ ان لوگوں سے تقریباً خالی ہو گیا جنہوں نے واقعات کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش کی۔اسلام میں فتنوں کے اصلی موجب صحابہ نہ تھے اس بات کو خوب یاد رکھو کہ یہ خیال کہ اسلام میں فتنوں کے موجب بعض بڑے بڑے صحابہ ہی تھے بالکل غلط ہے۔ان لوگوں کے حالات پر مجموعی نظر ڈالتے ہوئے یہ خیال بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اپنے ذاتی اغراض یا مفاد کی خاطر انہوں نے اسلام کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی۔جن لوگوں نے صحابہ کی جماعت میں مسلمانوں میں اختلاف و شقاق نمودار ہونے کی وجوہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے سخت غلطی کھائی ہے۔فتنہ کی وجوہ اور جگہ پیدا ہوئی ہیں اور وہیں ان کی تلاش کرنے پر کی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی امید کی جا سکتی ہے۔جو غلط روایات اس زمانہ کے متعلق مشہور کی گئی ہیں اگر ان کو صحیح تسلیم کر لیا جاوے تو ایک صحابی بھی نہیں بچتا جو اس فتنہ میں حصہ لینے سے محفوظ رہا ہو اور ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا جو تقویٰ اور دیانت پر مضبوطی سے قائم رہا ہو اور یہ اسلام کی صداقت پر ایک ایسا حملہ