اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 17

کے زمانہ میں اسلام لانے والے لوگوں کو بد اثر سے بچایا جائے گا۔چنانچہ آپ کی وفات کے بعد گو ایک سخت پہر ارتداد کی پیدا ہوئی مگر فوراً دب گئی اور لوگوں کو حقیقت اسلام معلوم ہو گئی مگر آپ کے بعد ایران و شام اور مصر کی فتوحات کے بعد اسلام اور دیگر مذاہب کے میل و ملاپ سے جو فتوحات روحانی اسلام کو حاصل ہوئیں وہی اس کے انتظام سیاسی کے اختلال کا باعث ہو گئیں۔کروڑوں کروڑ آدمی اسلام کے اندر داخل ہوئے اور اس کی شاندار تعلیم کو دیکھ کر ایسے فدائی ہوئے کہ اس کے لئے جانیں دینے کے لئے تیار ہو گئے۔مگر اس قدر تعداد نو مسلموں کی بڑھ گئی کہ ان کی تعلیم کا کوئی ایسا انتظام نہ ہو سکا جو طمانیت بخش ہوتا۔جیسا کہ قاعدہ ہے اور انسانی دماغ کے بار یک مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی جوش کے ما تحت ان لوگوں کی تربیت اور تعلیم کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔جو کچھ یہ مسلمانوں کو کرتے دیکھتے تھے کرتے تھے اور ہر ایک حکم کو بخوشی بجالاتے تھے۔مگر جوں جوں ابتدائی جوش کم ہوتا گیا۔جن لوگوں کو تربیت روحانی حاصل کرنے کا موقع نہ ملا تھا ان کو احکام اسلام کی بجا آوری بار معلوم ہونے لگی۔اور نئے جوش کے ٹھنڈا ہوتے ہی پرانی عادات نے پھر زور کرنا شروع کیا۔غلطیاں ہر ایک انسان سے ہو جاتی ہیں اور سیکھتے سیکھتے انسان سیکھتا ہے۔اگر ان لوگوں کو کچھ حاصل کرنے کا خیال ہوتا تو کچھ عرصہ تک ٹھوکریں کھاتے ہوئے آخر سیکھ جاتے۔مگر یا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہ حال تھا کہ ایک شخص سے جب ایک جرم ہو گیا تو باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ فرمانے کے کہ جب خدا تعالیٰ ستاری کرے تو کوئی خود کیوں اپنی فضیحت کرے اس نے اپنے قصور کا خود اقرار کیا اور سنگسار ہونے سے نہ ڈرا۔یا اب حدود شریعت کو قائم رکھنے کے لئے اگر چھوٹی سے چھوٹی سزا بھی دی جاتی تو ان لوگوں کو نا پسند ہوتی پس بوجہ اسلام کے دل میں نہ داخل ہونے کے شریعت کو 17