اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 105
سے میری بوٹیاں کر دیں تو یہ مجھے منظور ہے۔مگر خلافت سے میں جدا نہیں ہوسکتا۔باقی رہی تیسری بات کہ پھر یہ لوگ اپنے آدمی چاروں طرف بھیجیں گے کہ کوئی میری بات نہ مانے۔سو میں خدا کی طرف سے ذمہ دار نہیں ہوں اگر یہ لوگ ایک امر خلاف شریعت کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔پہلے بھی جب انہوں نے میری بیعت کی تھی تو میں نے ان پر جبر نہیں کیا تھا۔جو شخص عہد توڑنا چاہتا ہے میں اس کے اس فعل پر راضی نہیں نہ خدا تعالیٰ راضی ہے۔ہاں وہ اپنی طرف سے جو چاہے کرے۔چونکہ حج کے دن قریب آرہے تھے اور چاروں طرف سے لوگ مکہ مکرمہ میں جمع ہو رہے تھے۔حضرت عثمان نے اس خیال سے کہ کہیں وہاں بھی کوئی فساد نہ کھڑا کریں اور اس خیال سے بھی کہ حج کے لئے جمع ہونے والے مسلمانوں میں اہل مدینہ کی مدد کی تحریک کریں حضرت عبد اللہ بن عباس کو حج کا امیر بنا کر روانہ کیا۔حضرت عبد اللہ بن عباس نے بھی عرض کی کہ ان لوگوں سے جہاد کرنا مجھے زیادہ پسند ہے مگر حضرت عثمان نے ان کو مجبور کیا کہ وہ حج کے لئے جاویں۔اور حج کے ایام میں امیر حج کا کام کریں تا کہ مفسد وہاں اپنی شرارت نہ پھیلا سکیں اور وہاں جمع ہونے والے لوگوں میں بھی مدینہ کے لوگوں کی مدد کی تحریک کی جاوے۔اور مذکورہ بالا خط آپ ہی کے ہاتھ روانہ کیا۔جب ان خطوں کا ان مفسدوں کو علم ہوا تو انہوں نے اور بھی سختی کرنا شروع کر دی۔اور اس بات کا موقع تلاش کرنے لگے کہ کسی طرح لڑائی کا کوئی بہانہ مل جاوے تو حضرت عثمان کو شہید کر دیں مگر ان کی تمام کوششیں فضول جاتی تھیں اور حضرت عثمان ان کو کوئی موقع شرارت کا ملنے نہ دیتے تھے۔105