اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 6
ہے کہ پیچ و بنیاد اس سے اکھڑ جاتی ہے۔حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہنچانا جاتا ہے۔اور ان روایات کے بموجب اسلام کے درخت کے پھل ایسے کڑوے ثابت ہوتے ہیں کہ کہ کچھ خرچ کرنا تو الگ رہا مفت بھی اس کے لینے کے لئے کوئی تیار نہ ہوگا۔مگر کیا کوئی شخص جس نے رسول کریم کی قوت قدسیہ کا ذرا بھی مطالعہ کیا ہو۔اس امر کے تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔یہ خیال کرنا بھی بعید از عقل ہے کہ جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی آپ کے جلیل القدر اور جاں نثار صحابہ تھے اور آپ سے نہایت قریبی رشتے اور تعلق رکھتے تھے وہ بھی اور ان کے علاوہ تمام دیگر صحابہؓ بھی بلا استثناء چند ہی سال میں ایسے بگڑ گئے کہ صرف ذاتی اغراض کے لئے نہ کہ کسی مذہبی اختلاف کی بناء پر ایسے اختلافات میں پڑ گئے کہ اس کے صدمہ سے اسلام کی جڑ ہل گئی۔مگر افسوس ہے کہ گو مسلمان لفظا تو نہیں کہتے کہ صحابہ نے اسلام کو تباہ و برباد کرنے کے لئے فتنے کھڑے کئے۔لیکن انہوں نے ایسے لوگوں کی روایتوں کو سچا سمجھ کر جنہوں نے اسلام اچھی طرح قبول نہیں کیا تھا اور صرف زبانی اقرار اسلام کیا تھا اور پھر ایسے لوگوں کی تحقیقات پر اعتبار کر کے جو اسلام کے سخت دشمن اور اس کے مثانے کے درپے ہیں ایسی باتوں کو تسلیم کر رکھا ہے جن کے تسلیم کرنے سے لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ صحابہ کی جماعت نعوذ باللہ تقویٰ اور دیانت سے بالکل خالی تھی۔اے میں اپنے بیان میں اس امر کا لحاظ رکھوں گا کہ تاریخیں وغیرہ نہ آویں تا کہ سمجھنے میں دقت نہ ہو اور مضمون پیچ دار نہ ہو جائے۔کیونکہ میرے اس لیکچر کی اصل غرض ابتدائے اسلام کے بعض اہم واقعات سے کالجوں کے طلباء کو واقف کرنا ہے۔اور اسی وجہ سے ہی 6