اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 60
اے لوگوں! خدا تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ ہم دشمن تھے۔اس نے تمہارے دلوں میں اتحاد پیدا کیا اور تم بھائی بھائی ہو گئے۔تم ایک ہلاکت کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے خدا تعالیٰ نے تم کو اس سے بچایا پس اس مصیبت میں اپنے آپ کو نہ ڈالو۔جس سے خدا تعالیٰ نے تم کو بچایا تھا۔کیا اسلام اور ہدایت الہی اور سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تم لوگ حق کو نہیں پہچانتے اور حق کے دروازاہ کی طرف نہیں آتے؟ اس پر قعقاع بن عمرو نے ان سے کہا کہ آپ وعظ سے اس فتنہ کو روکنا چاہتے ہیں یہ امید نہ رکھیں۔ان شورشوں کو تلوار کے سوا کوئی چیز نہیں روک سکتی اور وہ زمانہ بعید نہیں کہ تلوار بھی کھینچی جائے گی۔اس وقت یہ لوگ بکری کے بچوں کی طرح چیچنیں گے اور خواہش کریں گے کہ یہ زمانہ پھر لوٹ آوے مگر پھر خدا تعالیٰ قیامت تک یہ نعمت ان کی طرف نہ لوٹائے گا۔عوام الناس شہر کے باہر جمع ہوئے اور مدینہ کا رُخ کیا اور سعید بن العاص کا انتظار کرنے لگے۔جب وہ سامنے آئے تو ان سے کہا کہ آپ واپس چلے جاویں ہمیں آپ کی ضرورت نہیں۔سعید نے کہا کہ یہ بھی کوئی دانائی ہے کہ اس قدر آدمی جمع ہو کر اس کام کے لئے باہر نکلے ہو۔ایک آدمی کے روکنے کے لئے ہزار آدمی کی کیا ضرورت تھی۔یہی کافی تھا کہ تم ایک آدمی خلیفہ کی طرف بھیج دیتے اور ایک آدمی میری طرف روانہ کر دیتے۔یہ کہہ کر انہوں نے تو اپنی سواری کو ایڑی لگائی اور مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تا کہ حضرت عثمان کو خبر دار کر دیں۔اور یہ لوگ حیران رہ گئے اتنے میں ان کا ایک غلام نظر آیا اس کو ان لوگوں نے قتل کر دیا۔سعید بن العاص نے مدینہ پہنچ کر حضرت عثمان کو اس تمام فتنہ سے اطلاع دی۔آپ نے فرمایا کہ کیا وہ لوگ میرے خلاف اُٹھے ہیں سعید نے کہا کہ وہ ظاہر تو یہ کرتے ہیں 60 60