اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 58
لوگوں کو جو کوفہ سے جلا وطن کئے گئے تھے اور جن کا واقعہ پہلے بیان ہو چکا ہے وہ بلا لائے۔وہ خط لے کر ان لوگوں کے پاس گیا۔اس خط کا مضمون یہ تھا کہ اہل مصر ہمارے ساتھ مل گئے ہیں اور موقع بہت اچھا ہے یہ خط پہنچتے ہی ایک منٹ کی دیر نہ کرو اور واپس آجاؤ۔کس قدر تعجب کی بات ہے کہ خلیفہ وقت سابق بالا یمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد کے خلاف جوش ظاہر کرنے والے اور اس پر عیب لگانے والے وہ لوگ ہیں جو خود نمازوں کے تارک ہیں۔کیا ہو سکتا ہے کہ اسلام کے لئے غیرت صرف بے دینوں میں پیدا ہو؟ اگر واقع میں حضرت عثمان یا ان کے والیوں میں کوئی نقص ہوتا۔کوئی بات خلاف شریعت ہوتی کوئی کمزوری ہوتی تو اس کے خلاف جوش کا اظہار کرنے والے علی ،طلحہ، زبیر، سعد بن الوقاص ، عبد اللہ بن عمر، اسامہ بن زید، عبد اللہ بن عباس، ابو موسیٰ اشعری، حذیفہ بن الیمان، ابوہریرہ ، عبد اللہ بن سلام ، عبادہ بن صامت ، اور محمد بن مسلمہ رضوان اللہ علیہم ہوتے نہ کہ یزید بن قیس اور اشتر۔یہ خط لے کر نامہ بر جزیرہ پہنچا اور جلا وطنان اہل کوفہ کے سپر دکر دیا۔جب انہوں نے اس خط کو پڑھا تو سوائے اشتر کے سب نے ناپسند کیا۔کیونکہ وہ عبد الرحمن بن خالد کے ہاتھ دیکھ چکے تھے۔مگر اشتر جو مدینہ میں جا کر حضرت عثمان سے معافی مانگ کر آیا تھا اس کی تو بہ قائم نہ رہی اور اسی وقت کوفہ کی طرف چل پڑا۔جب اس کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اشتر واپس چلا گیا تو وہ ڈرے کہ عبد الرحمن ہماری بات پر یقین نہ کریں گے اور سمجھیں گے کہ یہ سب کام ہمارے مشورہ سے ہوا ہے۔اس خوف سے وہ بھی نکل بھاگے جب عبد الرحمن بن خالد بن ولید کو معلوم ہوا تو انہوں نے پیچھے آدمی بھیجے مگر ان کے آدمی ان کو پکڑ نہ 58