اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 56

اٹھے اور اس وقت کوئی انتظام نہ ہو سکے۔حضرت عثمان نے ان کو جواب دیا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی کوکسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا خواہ جسم کی دھجیاں اُڑادی جائیں۔حضرت معاویہؓ نے کہا کہ پھر دوسرا مشورہ یہ ہے کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں ایک دستہ شامی فوج کا آپ کی حفاظت کے لئے بھیج دوں۔ان لوگوں کی موجودگی میں کوئی شخص شرارت نہیں کر سکے گا حضرت عثمان نے جواب دیا کہ نہ میں عثمان کی جان کی حفاظت کے لئے اس قدر بوجھ بیت المال پر ڈال سکتا ہوں اور نہ یہ پسند کر سکتا ہوں کہ مدینہ کے لوگوں کو فوج رکھ کر تنگی میں ڈالوں۔اس پر حضرت معاویہؓ نے عرض کی کہ پھر تیسری تجویز یہ ہے کہ صحابہ کی موجودگی میں لوگوں کو جرات ہے کہ اگر عثمان نہ رہے تو ان میں سے کسی کو آگے کھڑا کر دیں گے۔ان لوگوں کو مختلف ملکوں میں پھیلا دیں۔حضرت عثمان نے جواب دیا کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کیا ہے میں ان کو پراگندہ کر دوں۔اس پر معاویہؓ رو پڑے اور عرض کی کہ اگر ان تدابیر میں سے جو آپ کی حفاظت کے لئے میں نے پیش کی ہیں آپ کوئی بھی قبول نہیں کرتے تو اتنا تو کیجئے کہ لوگوں میں اعلان کر دیجئے کہ اگر میری جان کو کوئی نقصان پہنچے تو معاویہؓ کو میرے قصاص کا حق ہوگا۔شاید لوگ اس سے خوف کھا کر شرارت سے باز رہیں۔حضرت عثمان نے جواب دیا کہ معاویہ ! جو ہونا ہے ہو کر رہے گا میں ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ آپ کی طبیعت سخت ہے ایسا نہ ہو آپ مسلمانوں پر سختی کریں اس پر حضرت معاویہ روتے ہوئے آپ کے پاس سے اٹھے اور کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ آخری ملاقات ہو۔اور باہر نکل کر صحابہ سے کہا کہ اسلام کا دارو مدار آپ لوگوں پر ہے حضرت عثمان اب بالکل ضعیف ہو گئے ہیں اور فتنہ بڑھ رہا ہے آپ لوگ ان کی نگہداشت رکھیں۔یہ کہہ کر 56