اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 33

دھوکا دینے سے وہ معاویہ سے جھگڑتے تھے کہ بیت المال کے اموال کو مال اللہ نہیں کہنا چاہئے اور حضرت عثمان کے پاس بھی شکایت لائے تھے وہ اپنی بول چال میں اس لفظ کو برابر استعمال کرتے تھے چنانچہ اس فساد کے بعد جب کہ وہ ربذہ میں تھے ایک دفعہ ایک قافلہ وہاں اُترا۔اس قافلہ کے لوگوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کے ساتھیوں کو ہم نے دیکھا ہے وہ بڑے بڑے مالدار ہیں مگر آپ اس غربت کی حالت میں ہیں۔انہوں نے ان کو یہ جواب دیا کہ إِنَّهُمْ لَيْسَ لَهُمْ فِي مَالِ اللَّهِ حَقٌّ إِلَّا وَلِيْ مِثْلُهُ ( طرى جلده صفحه ۲۸۶۲ مطبوعہ بیروت) یعنی ان کا مال اللہ ( یعنی بیت المال کے اموال ) میں کوئی ایسا حق نہیں جو مجھے حاصل نہ ہو۔اسی طرح انہوں نے وہاں کے حبشی حاکم کو بھی رَقِيقٌ مِّنْ مَّالِ اللَّهِ (طبری جلده صفحه ۱۸۶۲ مطبوعہ بیروت ) ( ماك اللہ کا غلام ) کے نام سے یاد کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود بھی یہ لفظ استعمال کرتے تھے اور باوجود اس لفظ کی مخالفت کرنے کے بے تحاشا اس لفظ کا آپ کی زبان پر جاری ہو جانا اس امر کی شہادت ہے کہ یہ صحابہ کا ایک عام محاورہ تھا۔مگر ابن السوداء کے دھوکا دینے سے آپ کے ذہن سے یہ بات نکل گئی۔یہ فتنہ جسے بولشوزم کا فتنہ کہنا چاہئے حضرت معاویہؓ کی حسن تدبیر سے شام میں تو چکنے نہ پایا۔مگر مختلف صورتوں میں یہ خیال اور جگہوں پر اشاعت پا کر ابن السوداء کے کام میں ممد ہو گیا۔ابن السوداء شام سے نکل کر مصر پہنچا۔اور یہی مقام تھا جسے اس نے اپنے کام کا مرکز بنانے کے لئے چنا تھا۔کیونکہ یہ مقام دارلخلافہ سے بہت دور تھا اور دوسرے اس جگہ صحابہؓ کی آمد ورفت اس کثرت سے نہ تھی جتنی کہ دوسرے مقامات پر۔جس کی وجہ سے یہاں کے 33 33