اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 117

شخص کو قتل کر دیا تو حکومت کا کام بغیر تلوار کے نہ چلے گا ( یعنی چھوٹے چھوٹے جرموں پر لوگوں کو قتل کیا جاوے گا ) یا درکھو کہ اس وقت مدینہ کے محافظ ملائکہ ہیں۔اگر تم اس کو قتل کر دو گے تو ملائکہ مدینہ کو چھوڑ جائیں گے۔اس نصیحت سے ان لوگوں نے یہ فائدہ اٹھایا کہ عبد اللہ بن سلام صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھتکار دیا۔اور ان کے پہلے دین کا طعنہ دے کر کہا کہ اے یہودن کے بیٹے ! تجھے ان کاموں سے کیا تعلق۔افسوس کہ ان لوگوں کو یہ تو یا درہا کہ عبداللہ بن سلام یہودن کے بیٹے تھے لیکن یہ بھول گیا کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لائے اور رسول کریم نے آپ کے ایمان لانے پر نہایت خوشی کا ظہار کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر ایک مصیبت اور دکھ میں آپ شریک ہوئے۔اور اسی طرح یہ بھی بھول گیا کہ ان کا لیڈر اور ان کو ورغلانے والا حضرت علیؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصی قرار دے کر حضرت عثمان کے مقابلہ پر کھڑا کرنے والا عبد اللہ بن سبا بھی یہو دن کا بیٹا تھا بلکہ خود یہودی تھا اور صرف ظاہر میں اسلام کا اظہار کر رہا تھا۔مفسدوں کا حضرت عثمان کو قتل کرنا حضرت عبد اللہ بن سلام تو ان لوگوں سے مایوس ہوکر چلے گئے اور ادھر ان لوگوں نے یہ دیکھ کر کہ دروازہ کی طرف سے جا کر حضرت عثمان” کوقتل کرنا مشکل ہے کیونکہ اس طرف تھوڑے بہت جو لوگ بھی روکنے والے موجود ہیں وہ مرنے مارنے پر تلے ہوئے ہیں یہ فیصلہ کیا کہ کسی ہمسایہ کے گھر کی دیوار پھاند کر حضرت عثمان کو قتل کر دیا جائے چنانچہ اس ارادے سے چند لوگ ایک ہمسایہ کی دیوار پھاند کر آپ کے کمرہ میں گھس گئے۔جب 117