اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 100
نہیں۔کیونکہ حضرت عثمان نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ تم ان کو قید کر دینے اور قتل کر دینے کو جائز سمجھنے لگے ہو۔حضرت علی کی اس نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم اس شخص تک دانہ پانی نہ پہنچنے دیں گے۔یہ وہ جواب تھا جو انہوں نے اس شخص کو دیا جسے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصی اور آپ کا حقیقی جانشین قرار دیتے تھے۔اور کیا اس جواب کے بعد کسی اور شہادت کی بھی اس امر کے ثابت کرنے کے لئے ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ حضرت علی کا وصی قرار دینے والا گروہ حق کی حمایت اور اہل بیت کی محبت کی خاطر اپنے گھروں سے نہیں نکلا تھا بلکہ اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنے کے لئے۔حضرت اُمّ حبیبہ سے مفسدوں کا سلوک اُمہات المؤمنین میں سے سب سے پہلے حضرت ام حبیبہ آپ کی مدد کے لئے آئیں۔ایک خچر پر آپ سوار تھیں۔آپ اپنے ساتھ ایک مشکیزہ پانی کا بھی لائیں۔لیکن اصل غرض آپ کی یہ تھی کہ بنوامیہ کے یتامی اور بیواؤں کی وصیتیں حضرت عثمان کے پاس تھیں۔اور آپ نے جب دیکھا کہ حضرت عثمان کا پانی باغیوں نے بند کر دیا ہے تو آپ کو خوف ہوا کہ وہ وصایا بھی کہیں تلف نہ ہو جائیں اور آپ نے چاہا کہ کسی طرح وہ وصایا محفوظ کر لی جائیں۔ورنہ پانی آپ کسی اور ذریعہ سے بھی پہنچاسکتی تھیں۔جب آپ حضرت عثمان کے دروازے تک پہنچیں تو باغیوں نے آپ کو روکنا چاہا لوگوں نے بتایا کہ یہ ام المؤمنين ام حبیبہ ہیں مگر اس پر بھی وہ لوگ باز نہ آئے اور آپ کی خچر کو مارنا شروع کیا۔ام المؤمنین ام حبیبہ نے فرمایا کہ میں ڈرتی ہوں کہ بنوامیہ کے یتامی اور بیوگان کی وصایا ضائع نہ ہوجائیں۔اس لئے اندر جانا چاہتی ہوں تا کہ ان کی حفاظت کا سامان کر دوں۔مگر ان بدبختوں 100