اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 84
فریب صرف چندا کا بر کا کام تھا اور کوئی تعجب نہیں کہ صرف عبداللہ بن سبا اور اس کے چند خاص شاگردوں کا کام ہو۔اور دوسرے لوگوں کو خواہ وہ سر دارلشکر ہی کیوں نہ ہوں اس کا علم نہ ہو۔خط والے منصوبے کے ثبوت میں سات دلائل اس امر کا ثبوت کہ یہ کاروائی انہی لوگوں میں سے بعض لوگوں کی تھی یہ ہے:۔ان لوگوں کی نسبت اس سے پہلے ثابت ہو چکا ہے کہ اپنے مدعا کے حصول کے لئے یہ لوگ جھوٹ سے پر ہیز نہیں کرتے تھے جیسا کہ ولید بن عتبہ اور سعید بن العاص کے مقابلہ میں انہوں نے جھوٹ سے کام لیا۔اسی طرح مختلف ولایات کے متعلق جھوٹی شکایات مشہور کیں جن کی تحقیق اکا بر صحابہ نے کی اور ان کو غلط پایا۔پس جب کہ ان لوگوں کی نسبت ثابت ہو چکا ہے کہ جھوٹ سے ان کو پر ہیز نہ تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ اس امر میں ان کو ملزم نہ قرار دیا جاوے اور ایسے لوگوں پر الزام لگا یا جاوے جن کا جھوٹ ثابت نہیں۔جیسا کہ حضرت علی اور محمد بن مسلمہؓ نے اعتراض کیا ہے ان لوگوں کا ایسی جلدی واپس آجانا اور ایک وقت میں مدینہ میں داخل ہونا اس بات کی شہادت ہے کہ یہ ایک سازش تھی۔کیونکہ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے اہل مصر بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بویب مقام پر اس قاصد کو جو ان کے بیان کے مطابق حضرت عثمان کا خط والی مصر کی طرف لے جار ہا تھا پکڑا تھا۔بویب مدینہ سے کم سے کم چھ منازل پر واقع ہے اور اس جگہ واقع ہے جہاں سے مصر کا راستہ شروع ہوتا ہے۔جب اہل مصر اس جگہ تک پہنچ گئے تھے تو اہل کوفہ اور اہل بصرہ بھی قریباً بالمقابل جہات پر چھ چھ منازل طے کر چکے ہوں گے اور اس طرح اہل مصر سے جو کچھ واقع ہوا اس کی اطلاع دونوں قافلوں کو کم سے کم بارہ تیرہ دن میں 84